SKIP TO MAIN CONTENT

پاکستان سمیت کئی ممالک کی افغان شہریوں کی ملک بدری مہم کےآسٹریلیا میں پناہ کی درخواستوں پر اثرات

Afghan Lina Amani in exile - SBS supplied.jpg
Afghan Lina Amani in exile - SBS supplied

ایران اور پاکستان نے گزشتہ ایک سال کے دوران 52 لاکھ افغان پناہ کے متلاشی افراد کو واپس افغانستان بھیجا ہے.جرمنی جیسے اقوام متحدہ کے پناہ گزین کنونشن پر دستخط کرنے والے ممالک بھی افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، ناقدین افغانستان کی صورتحال کو انسانی حقوق کا بڑا بحران قرار دے رہے ہیں۔۔آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ ملک بدری کی مہم افغان پناہ گزینوں کی درخواستوں پر کارروائی کی اس کی صلاحیت میں رکاوٹ بن رہی ہے۔


تاریخِ اشاعت بجے

By Haylena Krishnamoorthy, Rashida Yosufzai, Mujeeb Muneeb

پیش کار Haylena Krishnamoorthy

ذریعہ: SBS



Skip to podcast episode content

ایران اور پاکستان نے گزشتہ ایک سال کے دوران 52 لاکھ افغان پناہ کے متلاشی افراد کو واپس افغانستان بھیجا ہے.جرمنی جیسے اقوام متحدہ کے پناہ گزین کنونشن پر دستخط کرنے والے ممالک بھی افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، ناقدین افغانستان کی صورتحال کو انسانی حقوق کا بڑا بحران قرار دے رہے ہیں۔۔آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ ملک بدری کی مہم افغان پناہ گزینوں کی درخواستوں پر کارروائی کی اس کی صلاحیت میں رکاوٹ بن رہی ہے۔


آسٹریلیا کے محکمہ داخلہ کے ایک ترجمان نے ایس بی ایس کو بتایا کہ پاکستان میں درست ویزے کے بغیر مقیم افراد کو پاکستانی حکومت کے غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے منصوبے کے تحت ملک بدری کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایک بیان میں محکمہ خارجہ و تجارت نے کہا کہ ان حالات اور پاکستان کے اندر درخواست گزاروں کی نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث ویزا درخواستوں پر کارروائی اور ضروری بائیومیٹرک اور طبی معائنے تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستان نئی ملک بدری کی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے گھروں اور بازاروں میں چھاپے مار کر بغیر دستاویزات کے مقیم افغان شہریوں کو تلاش کر رہا ہے اور ملک بدری میں تیزی لا رہا ہے۔

افغان خواتین کے حقوق کی 25 سالہ کارکن لینا امانی پاکستان میں چھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

لینا امانی کہتی ہیں کہ انہیں سب سے زیادہ خوف جبراً اسی جگہ واپس بھیجے جانے کا ہے جہاں سے وہ محفوظ اور بہتر زندگی کی تلاش میں فرار ہوئی تھیں۔

آزاد سینیٹر ڈیوڈ پوکاک نے افغان شہریوں کو آسٹریلیا لانے کے حکومتی عزم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا:

"میں نے سابق فوجیوں سے سنا ہے کہ آسٹریلیا واپس آنے کے بعد انہیں اس بات کا احساسِ جرم رہا کہ ان کے افغان ساتھی اور دوست پیچھے رہ گئے۔ ایک شخص، جس کا نام اس کی حفاظت کے لیے ظاہر نہیں کیا جا رہا، ارزگان میں ہمارے فوجیوں کے شانہ بشانہ کام کرتا رہا، لیکن اس کا کیس چھ سال تک التوا میں پڑا رہا، یہاں تک کہ طالبان نے اس پر بم حملہ کیا اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گیا۔ وہ فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے تقریباً جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ کیا حکومت ہر تصدیق شدہ مقامی افغان ملازم کو آسٹریلیا لانے کا عہد کرے گی؟"

افغان ایل ای ای، یعنی افغان لوکلی انگیجڈ ایمپلائی پروگرام، آسٹریلوی حکومت نے 2012 میں شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد افغانستان میں آسٹریلوی حکومت کے لیے کام کرنے والے افغان شہریوں کی انسانی ہمدردی کے ویزوں کی درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر پراسیس کرنا تھا۔

یہ پروگرام مئی 2024 میں بند ہو گیا، تاہم زیرِ التوا ویزا درخواستوں پر اب بھی کارروائی جاری ہے۔

وزیر خارجہ پینی وونگ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے طلب کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق افغان ایل ای ای پروگرام کے تحت 660 سے زیادہ درخواستوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ تعداد 2012 میں پروگرام شروع ہونے کے بعد ان سے پہلے کے تمام وزرائے خارجہ کے ادوار میں مجموعی طور پر منظور کی گئی درخواستوں سے زیادہ ہے۔

__________________________

ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے , اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے SBS Audio کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ ایپل (آئی فون) یا اینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔ پوڈکاسٹ سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم کا انتخاب کیجئے:  Spotify Podcast , Apple Podcasts


Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now