آسٹریلیا کی ترقی و تعمیرمیں بر صغیر سے آنے والے ہاکرز کی محنت بھی شامل ہے ، محترمہ سلطانہ دین کے اجداد بھی انہی افراد میں شامل ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ان اولین تارکین وطن افراد میں شامل ہیں جو برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان سے آسٹریلیا آئے ان کی ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو سنئے اس پوڈ کاسٹ میں
محترمہ سلطانہ دین نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ ’وائٹ آسٹریلیا پالیسی‘ سے قطع نظر ان کے پر دادا اپنے اہل خانہ بشمول خواتین آسٹریلیا آئے اور آباد ہوئے۔
انہوں نے بتایا یہ وہ وقت تھا جب سفید فام پالیسی کے باعث آسٹریلیا میں تارکین وطن کو اپنے خاندان کی خواتین اور بچے لانے کی اجازت نہیں تھی تاہم اپنے سیاسی اثر و رسوک کے باعچ ان کے پر دادا اپنے گھر کی خواتین کو یہاں لا سکے۔
سلطانہ دین نے بتایا کہ نسل در نسل اپنی اسلامی شناخت اور پاکستانی ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لئے وہ اور ان کا خاندان کوشش کرتے ہیں کہ میل جول کےذریعے یہ ورثہ اپنی اولادوں تک منتقل کیا جائے۔
سلطانہ دین کے مطابق قہ اسلامک کونسل بورڈ کی واحد خاتون رکن ہیں اور بطور خاتون بہتر انداز میں مشاورت فراہم کر سکتی ہیں
محترمہ سلطانہ دین کا کہنا تھا کہ وہ خود کو پاکستانی بھی سمجھتی ہیں ، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ آسٹریلیا کے متنوع ثقافتی ماحول میں رہتے ہوئے اپنی اسلامی اور پاکستانی شناخت کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔





