آسٹریلیا میں بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے گھر پر ہی تعلیم دنے کا رحجان تیزی سے بڑھا ہے۔ گزشتہ سال تقریباً 45,000 بچوں کو ملک بھر میں گھر پر تعلیم کے لئے رجسٹر کیا گیا۔ کوئنزلینڈ میں کووڈ وبا کے آغاز سے اب تک سب سے زیادہ ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اب ریاستی حکومت ہوم اسکولنگ کو ترجیح دینے والی اس بڑھتی کمیونٹی کے نقطۂ نظر کو شامل کرنے کے لیے قانون سازی کا جائزہ لے رہی ہے۔
کوئنزلینڈ ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2024 کے درمیان ہوم اسکولنگ میں 163 فیصد اضافہ ہوا، اور اب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں ہوم اسکول کرنے والے طلباء کی تعداد 11،000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ڈاکٹر ربیکا انگلش، جو کہ کوئنزلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں ایجوکیشن کی سینئر لیکچرر ہیں، کہتی ہیں کہ کوئنزلینڈ میں اس نمایاں اضافے کی وجوہات واضح نہیں ہیں۔
2024 میں کوئنزلینڈ فیملی اینڈ چائلڈ کمیشن کی جانب سے ایک علیحدہ ریویو میں حکومتی اداروں کے درمیان بہتر انفارمیشن شیئرنگ کی سفارش کی گئی تاکہ بچوں کی سیفٹی یقینی بنائی جا سکے۔
500 ہوم اسکول شدہ طلبہ کے ایک رینڈم سیمپل میں یہ معلوم ہوا کہ اگست 2021 سے اگست 2023 کے درمیان 35 بچے ایسے گھروں میں رہ رہے تھے جنہیں ہائی رسک ہوم انوائرنمنٹ سمجھا گیا۔
کمشنر لوک ٹوائیفورڈ کا کہنا ہے کہ ہوم ایجوکیشن سسٹم میں رجسٹرڈ بچوں کے بارے میں زیادہ آگاہی ہونی چاہیے۔
ایک سابقہ پرائمری اسکول ٹیچر، کلیرسا ویلنٹائن نے کبھی یہ منصوبہ نہیں بنایا تھا کہ وہ اپنے 12 سالہ جڑواں بیٹوں کو ہوم اسکول کریں گی۔




