سینیٹر لیریسا واٹرز کو میلبرن میں پارٹی روم ووٹ کے بعد آسٹریلین گرینز کی رہنما منتخب کیا گیا۔انہوں نے ایڈم بینڈٹ کی جگہ لی ہے، جو 3 مئی کے انتخابات میں اپنی میلبرن کی نشست ہار گئے تھے۔مس واٹرز کہتی ہیں کہ پارلیمنٹ میں گرینز کی مضبوط موجودگی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
کوئنزلینڈ سے اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی شخصیت اور دوسری خاتون کے طور پرمس واٹرز کو قیادت کے عہدے کے لیے اتفاق رائے سے بغیر کسی مخالفت کے منتخب کیا گیا۔
پارٹی وِپ سینیٹر نک مک کم نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر مہرین فاروقی آسٹریلین گرینز کی نئی ڈپٹی لیڈر ہیں۔ ان کا مقابلہ سینیٹر ڈورنڈا کاکس کے ساتھ تھا، اور اس ووٹنگ میں مہرین فاروقی کو 9 ووٹ اور ڈورنڈا کو 3 ووٹ ملے۔"
محترمہ مہرین فاروقی سابق لیڈر ایڈم بینڈٹ کی ڈپٹی رہ چکی ہیں، اور ان کی دوبارہ تقرری تسلسل کی نمائندگی کرتی ہے۔
پالیسی کے محاذ پر، مس واٹرز نے اشارہ دیا کہ گرینز انہی مسائل پر کام جاری رکھیں گے۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، قدرتی قوانین، ہاؤسنگ اور خدمات کی فراہمی کو ترجیحات میں شامل کیا۔

ڈپٹی لیڈر ممہرین فاروقی نے ایک زیادہ پرجوش انداز اپنایا، انہوں نے کہا کہ یہ وقت پیچھے ہٹنے کا نہیں، بلکہ زیادہ مطالبہ کرنے کا ہے۔ "
دائیں بازو کے میڈیا، ارب پتی افراد، بڑی کارپوریشنز اور البانیز حکومت کو ہمارا پیغام یہ ہے: ہم موسمیاتی عمل، ماحول، ہاؤسنگ، اور فلسطین کے انصاف پر ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہمارے ووٹرز نے ہمیں لوگوں اور کرہ ارض کے بچاؤ کے لیے لڑنے کے لیے منتخب کیا ہے، اور یہی کام ہم کریں گے۔"سنیٹر مہرین فاروقی
سینیٹر سارہ ہینسن-ینگ کو گرینز کا مینیجر آف بزنس نامزد کیا گیا ہے، جو لیبر پارٹی سے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔








