Watch FIFA World Cup 2026™

LIVE, FREE and EXCLUSIVE

کیا قنطاس کے ڈیٹا کی چوری کے خلاف شکایت کلاس ایکشن کا سبب بن سکتی ہے؟

Qantas Data Breach

FILE - A Qantas jet arrives at Melbourne's Tullamarine Airport in Melbourne, Australia, Dec. 12, 2023. (AP Photo/Mark Baker, File) Source: AP / Mark Baker/AP

قانونی فرم نے آسٹریلین ایئر لائن قانطاس کے خلاف ایک شکایت درج کرائی ہے جس میں اس ڈیٹا ہیک کا ذکر ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں صارفین کی ذاتی معلومات افشا ہوئیں۔قانطاس کا کہنا ہے کہ اسے نیو ساؤتھ ویلز سپریم کورٹ سے ایک عبوری حکم امتناعی موصول ہوا ہےاور اسکی بھرپور کوشش ہے کہ تقریباً چھ ملین صارفین کا چوری شدہ ڈیٹا لیک ہونے سے روکا جا سکے۔


تاریخِ اشاعت بجے

شائیع ہوا پہلے

پیش کار Haylena Krishnamoorthy, Rehan Alavi

ذریعہ: SBS



Share this with family and friends


قانونی فرم نے آسٹریلین ایئر لائن قانطاس کے خلاف ایک شکایت درج کرائی ہے جس میں اس ڈیٹا ہیک کا ذکر ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں صارفین کی ذاتی معلومات افشا ہوئیں۔قانطاس کا کہنا ہے کہ اسے نیو ساؤتھ ویلز سپریم کورٹ سے ایک عبوری حکم امتناعی موصول ہوا ہےاور اسکی بھرپور کوشش ہے کہ تقریباً چھ ملین صارفین کا چوری شدہ ڈیٹا لیک ہونے سے روکا جا سکے۔


مورِس بلیک برن کی پرنسپل وکیل لزّی اوشیہ نے آسٹریلیا کے موجودہ پرائیویسی قوانین کے بارے میں کہا کہ قانونی فرم نے آفس آف دی آسٹریلین انفارمیشن کمشنر او اے آئی سی کو شکایت درج کرائی ہے، ان لاکھوں صارفین کی جانب سے جن کا ڈیٹا ایک سائبر حملے میں چوری ہوا۔

اوشیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے شکایت اس لیے درج کرائی کیونکہ پرائیویسی کمشنر کو پرائیویسی ایکٹ کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا اختیار حاصل ہے، اور ان کے خیال میں قانطاس نے ذاتی معلومات کو غیر مجاز رسائی سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے۔قانونی ماہرین کے مطابق، یہ واقعہ قانطاس کے خلاف اجتماعی قانونی کارروائی (کلاس ایکشن) کا باعث بن سکتا ہے، جیسا کہ دو ہزار بائیس میں آپٹس اور میڈی بینک کے ڈیٹا لیکس کے بعد ہوا تھا۔

مس اوشیہ کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال فوری قانونی اصلاحات کا تقاضہ کرتی ہے۔انہوں نے ایس بی ایس نیوز کو بتایا کہ متاثرہ افراد کو حق ہونا چاہیے کہ وہ براہ راست عدالت میں پرائیویسی ایکٹ کی خلاف ورزی پر دعویٰ دائر کر سکیں، بجائے اس کے کہ ان کی درخواست کو کمشنر کے ذریعے گزرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا واقعہ دوبارہ پیش آئے۔ تو براہِ راست عدالتی رسائی سے صارفین کو فوری اور آسان طریقے سے انصاف مل سکے گا۔

لا ٹروب یونیورسٹی سے پروفیسر ڈاس وِن ڈی سلوا نے ایس بی ایس آن دی منی پوڈکاسٹ میں اس سائبر حملے پر بات کی۔

ان کا کہنا ہے کہ قانطاس کے پاس جدید ڈیٹا گورننس اور سائبر سیکیورٹی کے معیارات اور نگرانی کے نظام موجود ہیں۔

_____
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں
SBS Audio” کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔

Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now