امریکہ میں ایک اور دل دہلا دینے والی اجتماعی فائرنگ — 8 بچوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ

Mass Shooting Louisiana

People light candles during a prayer vigil for the victims of a mass shooting earlier in the day, Sunday, April 19, 2026, in Shreveport, La. Source: AP / Gerald Herbert/AP/AAP Image

امریکہ میں گھریلو تشدد کے خلاف مؤثر اقدامات اور مزید وسائل کی فراہمی کے مطالبات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ مطالبات اُس ہولناک واقعے کے بعد سامنے آئے ہیں جسے دو برس سے زائد عرصے میں ملک کی مہلک ترین اجتماعی فائرنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوبی ریاست لوزیانا کے شہر شریوپورٹ میں ایک مسلح شخص نے آٹھ بچوں کو گولی مار کر قتل کر دیا، جس کے بعد پولیس کی فائرنگ سے وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔


اتوار 19 اپریل کی علی الصبح، مقامی وقت کے مطابق تقریباً چھ بجے سے پہلے، شریوپورٹ پولیس کو ایک ہنگامی کال موصول ہوئی۔ اہلکار جب موقع پر پہنچے تو منظر نہایت دل دہلا دینے والا تھا۔

شہر کی پولیس کے کارپورل کرسٹوفر بورڈی لون کے مطابق،“افسران نے گھر کے اندر آٹھ بچوں کی لاشیں دیکھیں۔ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی کو بچایا جا سکے، مگر بدقسمتی سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ ایک بچہ جان بچانے کے لیے چھت سے کود گیا تھا، اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ بچ جائے گا۔ دو خواتین بھی زخمی ہوئیں، دونوں کی حالت تشویشناک ہے، تاہم ہمیں امید ہے کہ وہ سنبھل جائیں گی۔”

پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں ایک سے بارہ سال کے درمیان تھیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور، 31 سالہ شمار ایلکنز، پولیس کے ساتھ گاڑی کے تعاقب کے بعد مارا گیا۔

کارپورل بورڈی لون کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر گھریلو تنازع کا نتیجہ ہے۔“ملزم نے پہلے بچوں کی ماں کو نشانہ بنایا، پھر اس گھر میں جا کر آٹھ بچوں پر فائرنگ کی، جن میں سے سات اس کے اپنے تھے۔ ایک اور بچہ بھی وہاں موجود تھا جس کا اس سے تعلق نہیں تھا۔ ابھی بہت سی تفصیلات واضح ہونا باقی ہیں، لیکن یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور افسوسناک معاملہ ہے۔ ایسے واقعات کی وجوہات مکمل طور پر سمجھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔”

تفتیش کار اس وقت تین مختلف گھروں سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں، جبکہ پولیس کی فائرنگ کے واقعے کی علیحدہ تحقیقات بھی جاری ہیں۔

شریوپورٹ کے میئر ٹام آرسینو کا کہنا ہے کہ اس سانحے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔“یہ شاید ہماری کمیونٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اکثر ایسے واقعات میں فریقین ایک دوسرے کو جانتے ہیں، مگر یہاں معصوم بچے نشانہ بنے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشرے میں برائی اب بھی موجود ہے، اور ہمیں اس کے مقابلے کے لیے متحد ہونا ہوگا۔”

ادھر گن وائلنس آرکائیو کے مطابق، امریکہ میں اس سال اب تک 119 سے زائد اجتماعی فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جبکہ شریوپورٹ کا یہ واقعہ دو برس سے زیادہ عرصے میں سب سے مہلک قرار دیا جا رہا ہے۔

شہر کے کونسلر گریسن بوشے کہتے ہیں کہ شریوپورٹ میں ہونے والے 30 فیصد سے زیادہ قتل گھریلو تشدد سے جڑے ہوتے ہیں۔“ہمیں بطور کمیونٹی—چاہے ہمارا تعلق کسی بھی نسل یا سیاسی جماعت سے ہو—اکٹھا ہونا ہوگا۔ صرف پولیس وسائل بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، جب تک ہم تشدد کے اس چکر کو نہیں توڑتے۔”

لوزیانا کے گورنر جیف لینڈری نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ اس سانحے سے متاثر ہونے والوں کے لیے دعاگو ہیں۔

ریاستی سینیٹر سیم جینکنز کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گھریلو تشدد کے سدباب کے لیے مزید مؤثر اور مستقل اقدامات ناگزیر ہیں۔“اگر کسی فرد کے ماضی میں گھریلو تشدد کے شواہد موجود ہوں تو بروقت اور مسلسل مداخلت ضروری ہے، تاکہ ایسے سانحات کو روکا جا سکے۔”

شہر کے میئر نے یہ بھی بتایا کہ ایک جامع گھریلو تشدد مرکز کے قیام کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ بدھ 22 اپریل کی شام چھ بجے ایک دعائیہ تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔

ادھر ریاستی اسمبلی کی رکن ٹیمی فیلپس نے ذہنی صحت کی سہولیات میں اضافے پر زور دیا ہے، تاکہ متاثرہ افراد، خصوصاً بچوں، کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔

__
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now