آسٹریلیا جیسے کثیر الثقافتی معاشرے میں دنیا کے مختلف خطوں سے آکر بسنے والے تارکین وطن کے لیے اسکولوں سے بچوں کی طویل گرمائی تعطیلات ان کی سماجی تربیت اور ہم آہنگی کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں لیکن کیسے؟
میلبورن میں بسنے والی پاکستانی نژاد بتول گولانی نے ایس بی ایس اردو کو بتایا کہ مائیگرنٹ کمیونیٹیز کی مختلف نسلوں کے درمیان بہتر رابطے کا فقدان ہے جو اس بہترین موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے تک آسٹریلیا میں نوجوانوں کی بہتر تربیت کا تجربہ رکھنے والی بتول کہتی ہیں کہ بچوں کو معاشرے سے الگ تھلگ رکھنا کسی بھی صورت میں ایک اچھی روش نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ تارکین وطن کا پس منظر رکھنے والے والدین کو اعتدال پسندانہ انداز میں بچوں کو یہاں کی روایات اور مثبت پہلووں سے آشنا کرنا چاہیے۔




