آسٹریلیا میں منعقد ہونے والے مینگو فیسٹیولز نے پاکستانی آموں کے ذائقے کے ساتھ ساتھ ملک کی کثیرالثقافتی کمینیوٹیز کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہےہیں۔اتوات ۱۲ جولائی کو سڈنی میں ہونے والے مینگو میلہ اور بسنت کے فیسٹیول کوہزاروں افراد کی شرکت، نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منس، پنجاب حکومت کے صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑا، مقامی سیاست دانوں اور مختلف کمیونٹیز کی موجودگی نے منفرد بنا دیا۔ دوسری جانب کینبرا میں 26 جولائی کو ہونے والے مینگو فیسٹیول کے پری لانچ کے موقع پر پاکستان کے ہائی کمشنرعرفان شوکت نے کامیاب اور بڑے پیمانے پر تقریب کے انعقاد کی امید ظاہر کی۔
پاکستانی آموں کی مٹھاس اس سال بھی آسٹریلیا کی مختلف برادریوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا ذریعہ بنی۔ سڈنی میں منعقد ہونے والے مینگو فیسٹیول میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جہاں مختلف ثقافتوں، زبانوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے خاندانوں نے پاکستانی آموں، ثقافتی سرگرمیوں، پتنگ بازی، موسیقی اور خاندانی ماحول سے لطف اٹھایا۔
تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منس، پاکستانی پنجاب کے صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑا، مقامی اراکینِ پارلیمنٹ، سڈنی میں پاکستان کے قونصل جنرل، کمیونٹی رہنما اور دیگر معزز شخصیات شریک ہوئیں۔ اپنے خطاب میں پریمیئر کرس منس نے کہا کہ آسٹریلیا کی اصل طاقت اس کا کثیرالثقافتی معاشرہ ہے، جہاں مختلف قومیتوں، مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنی روایات کا جشن مناتے ہیں۔ ان کے مطابق مینگو فیسٹیول جیسے ثقافتی پروگرام آسٹریلیا کے تنوع، سماجی ہم آہنگی اور بین الثقافتی روابط کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
پنجاب حکومت کے صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑا، جو خصوصی طور پر پاکستان سے اس تقریب میں شرکت کے لیے سڈنی پہنچے، نے کہا کہ پاکستان میں آم کو “پھلوں کا بادشاہ” کہا جاتا ہے، لیکن ان کے لیے سب سے خوش آئند بات یہ تھی کہ آسٹریلیا میں ہزاروں افراد پاکستانی ثقافت اور آموں کے جشن میں شریک ہوئے۔ انہوں نے سکھ برادری اور دیگر کمیونٹیز کی بھرپور شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی اور باہمی احترام کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ثقافتی تبادلوں کو مزید فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی تاکہ مختلف برادریوں کے درمیان روابط مضبوط ہوں۔
تقریب میں شریک پاکستانی خاندانوں نے اسے بچوں اور خاندانوں کے لیے ایک بہترین تفریحی اور ثقافتی موقع قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے پروگرام نہ صرف بیرونِ ملک پاکستانی ثقافت سے تعلق برقرار رکھتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی روایات سے جوڑتے ہیں۔ ایک بھارتی پنجابی سکھ خاندان نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستانی کمیونٹی کی مہمان نوازی، انتظامات اور پرخلوص ماحول نے بے حد متاثر کیا، اور ایسے پروگرام دونوں برادریوں کو مزید قریب لاتے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کینبرا میں 26 جولائی کو ہونے والے مینگو فیسٹیول کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والی پری لانچ تقریب میں پاکستان کے ہائی کمشنر عرفان شوکت نے کہا کہ کینبرا میں ہونے والا مینگ فیسٹیول پاکستانی ثقافت، مہمان نوازی اور آسٹریلیا کے کثیرالثقافتی معاشرے کی خوبصورتی کو اجاگر کرے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ بڑی تعداد میں مختلف کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد اس تقریب میں شرکت کریں گے۔ منتظمین کے مطابق مینگو فیسٹیول صرف پاکستانی آموں کی نمائش نہیں بلکہ مختلف ثقافتوں، برادریوں اور معاشروں کے درمیان روابط، ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بھی ہے۔ سڈنی میں کامیاب انعقاد کے بعد اب تمام نظریں 26 جولائی کو کینبرا میں ہونے والے مینگو فیسٹیول پر مرکوز ہیں، جہاں ایک بار پھر پاکستانی آموں کی مٹھاس کے ساتھ آسٹریلیا کے کثیرالثقافتی معاشرے کا رنگ نمایاں ہوگا۔
ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, “SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔ ہمیں فیس بُک اور انسٹا گرام پر فالو کیجئے۔





