ایس بی ایس اردو سے بات کرتے ہوئے اویس خالد نے بتایا کہ سڈنی جیسے بڑے شہر سے تسمانیہ کے شہر ہوبارٹ منتقل ہونے کے دوران رہائش اور ملازمت سب سے بڑے چیلنجز کے طور پر سامنے آئے۔
سڈنی سے تسمانیہ کے شہر ہوبارٹ منتقل ہونے والے اویس خالد نے SBS سے بات چیت میں بتایا کہ بڑے شہروں سے علاقائی (ریجنل) شہروں میں جانے والوں کو سب سے پہلے رہائش اور روزگار کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریجنل علاقوں میں رہائش آسانی سے دستیاب نہیں ہوتی اور ابتدائی دنوں میں لوگ اوبر جیسے کام کر کے گزارا کرتے ہیں۔ اویس خالد نے بتایا کہ گروسری اور حلال گوشت کی خریداری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ہوبارٹ میں ایسی دکانوں کی تعداد بہت کم ہے اور دکانیں شام ۶ یا ۷ بجے بند ہو جاتی ہیں، جبکہ سڈنی میں رات گئے بھی ضرورت کی چیزیں مل جاتی ہیں۔ ان کے مطابق خاندان کے ساتھ منتقل ہونے والوں کے لیے کم از کم ایک ماہ پیشگی رہائش کا انتظام کرنا ضروری ہے کیونکہ یہاں ملازمت کے حصول میں بھی دو سے تین ماہ لگ جاتے ہیں۔ مقامی کمیونٹی واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پیجز کے ذریعے ایک دوسرے کو ملازمتوں کی اطلاع دیتی ہے، جو نئے آنے والوں کے لیے کافی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ آویس خالد نے مزید بتایا کہ ہوبارٹ کا موسم سڈنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سرد ہے اور اس سے ہم آہنگ ہونے میں وقت لگتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ تسمانیہ میں کثیرالثقافتی ماحول اور روزگار کے مواقع میں بہتری آ رہی ہے۔





