Consumer groups have issed warnings about increasing scams during the pandemic. Source: GettyImages-Tom Werner
میلبورن میں چھوٹا کاروبار کرنے والے بزنس مین نے پہلے پہل آسٹریلیا کے مقامی موبائیل نمبروں سے آنے والی کالز کو نظر انداز کیا مگر جب بلوں کی ادائیگی پر ڈسکاؤنٹ آفرز واٹس ایپ پر آئیں تو انہوں نے اس اسکیم کو آزمانے کے لئے ایک چھوٹا سا بلِ تیس فیصد ڈسکاؤنٹ پر جمع کرادیا اور کچھ دن بعد یوٹیلیٹی اکاؤنٹ سے بھی ان کے بل کی مکمل ادائیگی کی تصدیق ہو گئی۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ بڑے بلِ بھی اسی ڈسکاؤنٹ اسکیم پر جمع کرنا شروع کردئیے ۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا ؟سنئے ماہرانہ عیاری سے بنائی گئی جعلسازی کی اسکیم کا نشانہ بننے والے اعظم نور کی کہانی خود ان کی زبانی۔
میلبورن میں چھوٹا کاروبار کرنے والے بزنس مین نے پہلے پہل آسٹریلیا کے مقامی موبائیل نمبروں سے آنے والی کالز کو نظر انداز کیا مگر جب بلوں کی ادائیگی پر ڈسکاؤنٹ آفرز واٹس ایپ پر آئیں تو انہوں نے اس اسکیم کو آزمانے کے لئے ایک چھوٹا سا بلِ تیس فیصد ڈسکاؤنٹ پر جمع کرادیا اور کچھ دن بعد یوٹیلیٹی اکاؤنٹ سے بھی ان کے بل کی مکمل ادائیگی کی تصدیق ہو گئی۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ بڑے بلِ بھی اسی ڈسکاؤنٹ اسکیم پر جمع کرنا شروع کردئیے ۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا ؟سنئے ماہرانہ عیاری سے بنائی گئی جعلسازی کی اسکیم کا نشانہ بننے والے اعظم نور کی کہانی خود ان کی زبانی۔