آسٹریلیا میں ہر سال ہزاروں خواتین ماں بننے کے ایک نئے سفر کا آغاز کرتی ہیں۔ یہ زندگی کا ایک خوش کن مرحلہ ضرور ہے، لیکن بہت سی ماؤں کے لیے یہ خاموش تنہائی کا آغاز بھی ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو تارکینِ وطن یا مختلف ثقافتی اور لسانی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کے قریبی عزیز آسٹریلیا میں موجود نہیں ہوتے۔
آسٹریلیا میں تقریباً تین چوتھائی مائیں ہر ماہ کم از کم چند مرتبہ تنہائی محسوس کرتی ہیں، جبکہ صرف 38 فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ایسا مضبوط سماجی حلقہ میسر ہے جس پر وہ بھروسا کر سکیں۔
لیکن کیا یہ احساس صرف اعداد و شمار تک محدود ہے، یا یہ حقیقت بہت سی ماؤں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بھی ہے؟ یہی سوال ہم نے ڈاکٹر نشا کھوت سے کیا۔ وہ رائل آسٹریلین اینڈ نیوزی لینڈ کالج آف آبسٹیٹریشنز اینڈ گائناکالوجسٹس کی صدر ہیں اور خود بھی ماں ہونے کے ناطے اس تجربے کو ذاتی طور پر محسوس کر چکی ہیں۔
ڈاکٹر نشا کہتی ہیں کہ ماں بننے کے بعد تنہائی محسوس کرنا غیر معمولی بات نہیں۔ نئی ذمہ داریاں، بدلتا معمول، نیند کی کمی اور اپنے لیے وقت نہ ملنا، بہت سی خواتین کو سماجی طور پر الگ تھلگ محسوس کرا سکتا ہے۔ لیکن تارکینِ وطن خاندانوں میں، جہاں والدین یا قریبی رشتہ دار ساتھ موجود نہیں ہوتے، یہ احساس اور بھی گہرا ہو سکتا ہے۔
تنہائی پر تحقیق کرنے والی ممتاز ماہر اور Ending Loneliness Together کی چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر مشیل لم کہتی ہیں کہ ماں بننے کے بعد تنہائی صرف اس لیے نہیں ہوتی کہ انسان اکیلا ہو، بلکہ بعض اوقات لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی تعلق اور وابستگی کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ آخر پارکوں، پلے گروپس اور دیگر والدین کی موجودگی کے باوجود اتنی زیادہ مائیں تنہائی کیوں محسوس کرتی ہیں، اور اس موضوع پر کھل کر بات کیوں نہیں ہوتی۔
پروفیسر لم کے مطابق، تنہائی کا حل ہمیشہ بڑے اقدامات میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک مختصر گفتگو، کسی نئی ماں کو چائے کی دعوت دینا، یا پارک میں ایک سادہ سا "ہیلو" بھی تعلق کی ابتدا بن سکتا ہے۔
اسی سوچ کے تحت Ending Loneliness Together نے اس سال Loneliness Awareness Week کے موقع پر "Make Room for Connection" مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد لوگوں کو اپنے سماجی دائرے میں دوسروں کے لیے بھی جگہ پیدا کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماں بننے کے بعد تنہائی کوئی کمزوری نہیں، بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جس سے بہت سی خواتین گزرتی ہیں۔ اور بعض اوقات اس کا آغاز ختم ہونے کا بھی ایک بہت چھوٹا سا قدم ہوتا ہے—ایک مسکراہٹ، ایک گفتگو، یا کسی کو اپنے حلقۂ احباب میں خوش آمدید کہنا۔ اسی چھوٹے سے قدم سے شاید کسی ماں کو یہ احساس ہو کہ وہ اس سفر میں اکیلی نہیں۔





