معروف شاعر نصیر ترابی مرحوم کی تحقیق و تخلیق کو ادبی حلقوں میں سند کا درجہ حاصل تھا۔ ان کی مشہور زمانہ غزل ’وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی‘ کو عوامی حلقوں میں بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔ مکر دس جنوری دو ہزار اکیس کو یہ روشن چراغ بجھ گیا ۔ خود نصیر ترابی اپنے ادبی پس منظر کے بارے میں کیا کہتے تھے اور ان کے ساتھی شاعر و نقاد سحرانصاری ان کی شاعری اور شخصیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ سنئے اس پوڈ کاسٹ میں۔
شئیر





