Pakistani-origin Farah Kiyani in a volunteering event in Melbourne with other female volunteers
قریب ایک دہائی قبل پاکستان سے آکر آسٹریلیا میں بسنے والے فرح کیانی نے بتایا کہ رضاکارانہ طور پر ایک اسکول میں پڑھانے کی پیش کش نے ان کی زندگی میں ایک بہت بڑی مثبت تبدیلی کو ممکن بنایا۔
قریب ایک دہائی قبل پاکستان سے آکر آسٹریلیا میں بسنے والے فرح کیانی نے بتایا کہ رضاکارانہ طور پر ایک اسکول میں پڑھانے کی پیش کش نے ان کی زندگی میں ایک بہت بڑی مثبت تبدیلی کو ممکن بنایا۔
آسٹریلیا میں رواں ہفتہ نیشنل والنٹیئر ویک یا ہفتہ رضاکار کے طور پر منایا جارہا ہے اور اس اس سال ان رضاکاروں کی خدمات کو اجاگر کیا جارہا ہے جو معاشرے کو مضبوط بنانے اور لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں آسٹریلیا میں رضاکاروں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس پر حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی خدمات اور مہارتیں بغیر کسی معاوضے کے دینے والے افراد کے لیے مزید معاونت فراہم کرے۔
ملیبورن میں مقیم فرح کیانی کے بقول آسٹریلوی عوام میں رضاکارانہ خدمات سرانجام دینے کا جذبہ بے مثال ہے۔
اگرچہ آسٹریلیا کے تقریباً 20 فیصد رسمی رضاکار فلاحی کاموں، بے گھری اور سماجی خدمات سے منسلک ہیں، لیکن ایک اور شعبہ جہاں رضاکار نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، وہ ہے قدرتی آفات اور ہنگامی صورتحال کا مقابلہ۔ والنٹیئر ویک آسٹریلوی معاشرے میں رضاکاروں کی اہم شراکت کو اجاگر کر رہا ہے تاہم والنٹیئرنگ آسٹریلیا کے سی ای او مارک پیئرس کا کہنا ہے کہ رضاکاروں کی تعداد میں کمی خوش آئند نہیں ہے۔