جب ایک بچہ گھر میں اردو یا کوئی اور زبان بولتا ہے، اور باہر انگریزی کی دنیا میں رہتا ہے، تو اُس کے جذبات، خیالات اور شناخت میں ایک خاص کشمکش پیدا ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھی وہ خود کو کہیں کا نہ سمجھنے لگتا ہے — نہ مکمل اپنے والدین جیسا، نہ مکمل آسٹریلوی ماحول کا حصہ۔ ایسے میں سائیکو تھراپی بچوں کی مدد کر سکتی ہے۔
ملیبورن میں رہایش پزیر تھیراپیسٹ اریبہ صادق نے ایس بی ایس اردو سے بات چیت میں کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے خوداعتماد، خوش اور مضبوط بنیں تو ہمیں اُن کے جذبات کا خیال رکھنا ہوگا، چاہے وہ کسی بھی زبان میں ہوں۔
سائیکو تھراپی ایک ایسا حل ہے، جو اُن بچوں کو ملنا چاہیے جو دو دنیاؤں کے بیچ ایک خوبصورت پُل بننا چاہتے ہیں۔




