اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے امریکا پر شدید تنقید کی ہے جس نے غزہ میں جنگ بندی اور امدادی رسائی کی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر ڈوروتھی شے نے کہا کہ یہ قرارداد سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی اور حماس کو مزید تقویت دے گی۔
قرارداد پر ووٹنگ میں 14 ووٹ حمایت میں جبکہ 1 ووٹ مخالفت میں آیا، لیکن مستقل رکن کی مخالفت کی وجہ سے یہ منظور نہ ہو سکی۔
تسمانیہ کے پریمئیر جیریمی راکلف نے کہا ہے کہ اگر ان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے تو وہ فوری انتخابات کرانے کے لیے اقدام کریں گے۔
یہ تحریک لیبر اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہے، جس پر دوبارہ بحث شروع ہو چکی ہے۔ توقع ہے کہ گرین پارٹی اور تین آزاد ارکانِ اسمبلی کی حمایت سے یہ تحریک منظور ہو جائے گی۔ان پر ہوبارٹ میں تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے اسٹیڈیم منصوبے اور باس اسٹریٹ کے لیے دو نئی فیریوں کی فراہمی میں تاخیر پر شدید دباؤ ہے۔
راکلف نے عہد کیا ہے کہ وہ "آخری سانس تک لڑیں گے" اور استعفیٰ نہیں دیں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی فرمان پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت درجن بھر ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
متاثرہ ممالک میں افغانستان، برما، چاڈ، جمہوریہ کانگو، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔
یہ پابندی آئندہ پیر [[9 جون]] سے نافذالعمل ہوگی، جس کے ساتھ ساتھ برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرا لیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا سے آنے والے زائرین پر بھی سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔






