اہم نکات
- نواز شریف سے متعلق بیان نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی مشکل میں
- الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کی تیاریاں جاری
- تحریک انصاف کی خواتین رہنما رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار
- ڈالر، چینی اور دیگر اشیاء کی اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈاون
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر سابق وزیراعظم عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ چیئرمین تحریک انصاف کو سخت سیکورٹی حصار میں اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔ اسلام آباد ٹول پلازہ پر تحریک انصاف کے کارکنان نے عمران خان کے قافلے کا استقبال کیا اور پھولوں کی پتیان نچھاور کیں۔ کارکنان نے چیئرمین تحریک انصاف کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔
اڈیالہ جیل پہنچنے پر عمران خان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ عمران خان کا بلڈ پریشر، شوگر ، دل کی دھڑکن اور نبض چیک کی گئی۔ عمران خان کو جیل میں بی کلاس کے تحت سہولیات دے دی گئیں۔ جن میں اٹیچ باتھ روم، ٹی وی، اخبار اور خدمت گار شامل ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی جانب سے منگل کے روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے جیل میں سہولیات دینے کا بھی حکم دیا۔

ادھر سائفر کیس میں خصوصی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کردی ہے۔ خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف اٹک جیل میں سائفر کیس کی سماعت کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم میں شامل لطیف کھوسہ، نعیم پنجھوتہ، بیرسٹر سلمان صفدر اور عمیر نیازی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سائفرکیس کی سماعت کے بعد عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 10 اکتوبر تک توسیع کردی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کیا گیا جہاں عدالتی عملے نے ان کی حاضری لگائی۔ بعد ازاں عدالت نے شاہ محمود قریشی کے بھی جوڈیشل ریمانڈ میں 10 اکتوبر تک توسیع کردی۔ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے بغیر الیکشن بے معنی ہونگے۔

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی وطن واپسی پر گرفتاری کے نگران وزیرداخلہ کے یبان نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ ن لیگی رہنماوں نے نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ گران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ نوازشریف کو عدالت سے ضمانت نہ ملی تو گرفتار کریں گے، ایک ملزم کو جہاز سے گرفتار کرنے کیلئے کوئی بڑی فورس نہیں چاہیے ہوتی۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ نے نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے بیان کو ’حد سے تجاوز‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرفراز بگٹی بیان دینے سے پہلے سابق وزیرداخلہ شیخ رشید کا انجام دیکھ لیں ۔مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کہا کہ سرفراز بگٹی صاحب اپنے قد کے مطابق بات کریں۔ نواز شریف نے ایئر پورٹ سے کہاں جانا ہے؟ یہ نہ آپ کا مسئلہ ہے، نہ آپ کا فیصلہ ہے۔ سرفراز بگٹی نواز شریف کی فکر کرنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دیں۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بیان کو سیاق سباق سے ہٹ کر سیاسی رنگ دیا گیا۔ نگراں حکومت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔یہ بات خوش آئند ہے کہ نواز شریف سیاست میں واپس آنا چاہتے ہیں۔ عوام کا بڑا حصہ انہیں خوش آمدید کرنے کی تیاریوں میں مشغول ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔
ادھر مسلم لیگ ن سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے استقبال کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز لندن سے وطن واپس پہنچی گئی ہیں۔ لاہور ایئرپورٹ پر کارکنان کی بڑی تعداد نے مریم نواز کا استقبال کیا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے ابتدائی حلقہ بندیوں پر کام مکمل کرلیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق حتمی انتخابی فہرستوں کی اشاعت 30 نومبر کی جائے گی۔ جس کے بعد 54 دن کا انتخابی شیڈول دیا جائے گا اور عام انتخابات جنوری کے آخری ہفتے میں کرا دیئے جائیں گے۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ترک خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بیلٹ پیپر پر پاکستان تحریک انصاف کے نہ ہونے پر احتجاج ہوا تو بھی انتخابات قانونی اور جائز ہونگے۔ تحریک انصاف کے ترجمان شعیب شاہین نے کہا ہے کہ انتخابات 90 روز کے اندر ہونے چاہیں اور کارکنان اور لیڈران کی گرفتاریوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
ادھر پنجاب کی نگران حکومت نے ا لیکشن رولز میں ترمیم کرتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین ختم کرنے کی منظوری دی ہے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے پنجاب کابینہ کو بریفنگ دی کہ ای وی ایم فی الحال قابل عمل منصوبہ نہیں وقت کا ضیاع ہے، پنجاب حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے ای وی ایم کو ختم کر دیا۔
جناح ہاؤس حملہ کیس میں پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید اور دیگر خواتین کو رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ۔رہائی ملتے ہی پولیس کی نفری خواتین کو جیل سے لیکر روانہ ہوگئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چاروں خواتین کو تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا۔

ادھر اوکاڑہ کی مقامی عدالت نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر محکمہ اینٹی کرپشن حکام کے حوالےکر دیا ہے۔ اینٹی کرپشن حکام نے خاور مانیکا کو سینیئر سول جج کی عدالت میں پیش کیا اور ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔عدالت نے خاور مانیکا کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 4 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس اور 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 12 اکتوبر تک توسیع کردی ہے۔ ادھر لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے بھائی شیخ صادق کی لال حویلی کو ڈی سیل کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ادھر لاہور کی احتساب عدالت نے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کیس میں مونس الہی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔
رپورٹ: اصغرحیات




