Watch FIFA World Cup 2026™

LIVE, FREE and EXCLUSIVE

میلبورن سے اٹھتا سوال: فیمینزم کو کیوں مرد بمقابلہ عورت سمجھا جاتا ہے؟

akanksha saxena.jpeg

Akanksha Saxena Credit: Akanksha Saxena

آج ہم ایک ایسے لفظ سے گفتگو شروع کرتے ہیں جو آج کے دور میں کچھ لوگوں کے لیے حمایت نہیں بلکہ ایک طرح کی تنقید یا طنز بن چکا ہے—یعنی ‘فیمینزم’۔ میلبرن اس وقت عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی ایک بڑی گفتگو کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں Women Deliver 2026 میں دنیا بھر سے رہنما، کارکن اور پالیسی ساز جمع ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہم مغرب اور جنوبی ایشیا—خاص طور پر پاکستان اور بھارت—کی بات کرتے ہیں، تو کیا خواتین کے حقوق کی جدوجہد ایک جیسی ہے؟


تاریخِ اشاعت بجے

شائیع ہوا پہلے

By Shadi Khan Saif

پیش کار Shadi Khan Saif

ذریعہ: SBS




Share this with family and friends


آج ہم ایک ایسے لفظ سے گفتگو شروع کرتے ہیں جو آج کے دور میں کچھ لوگوں کے لیے حمایت نہیں بلکہ ایک طرح کی تنقید یا طنز بن چکا ہے—یعنی ‘فیمینزم’۔ میلبرن اس وقت عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی ایک بڑی گفتگو کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں Women Deliver 2026 میں دنیا بھر سے رہنما، کارکن اور پالیسی ساز جمع ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہم مغرب اور جنوبی ایشیا—خاص طور پر پاکستان اور بھارت—کی بات کرتے ہیں، تو کیا خواتین کے حقوق کی جدوجہد ایک جیسی ہے؟


ہمارے آج کے مہمان کے لیے یہ بحث کچھ اور ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ لفظ نہیں بلکہ اس کی غلط سمجھ ہے—کیونکہ یہ عورت اور مرد کی لڑائی نہیں، بلکہ انسانی حقوق کی بات ہے۔” “بی بی سی، ٹی آر ٹی اور ڈوئچے ویلے کے ساتھ کام کرنے والی معروف صحافی اکانکشا سکسینا ہمارے ساتھ موجود ہیں۔

____________________________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے

Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now