میمونہ مرزا عمر کی چھ دہائیاں دیکھ چکی ہیں لیکن آج بھی پاکستان میں کہیں بھی سفر کرنا ہو، وہ موٹر سائیکل پر اپنا ضروری سامان باندھتی ہیں اور سفر پر نکل پڑتی ہیں، ان کے سفر کا مقصد صرف قدرت کے اُن حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونا ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی ماہرانہ فوٹو گرافی اسکلز سے ان مناظر کو پاکستان سمیت دنیا بھر کے سامنے لانے کی بھی کوشش کرتی ہیں۔
شعبہ تعلیم سے وابستہ میمونہ مرزا پاکستان کے چپے چپے سے واقف ہیں، عمر کے اس حصے کو وہ صرف ایک نمبر قرار دیتی ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے، سفر کرنے سے گریزاں نہیں رہتیں۔

میمونہ مرزا کہتی ہیں پاکستان کا ہر کونہ دیکھ لیاہے، کبھی اکیلے تو کبھی گروپ کے ساتھ، پہاڑوں سے لے کر ریگستانوں اور ساحلوں تک، اکیلے اور وہ بھی ایک خاتون کے سفر کرنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سولو ٹریول میں بہت زیادہ خوش محسوس کرتی تھی، اکیلے میں سفر کرنا انسان کو اپنے آپ سے ملواتا ہے، ڈر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو بہت کچھ سکھاتا ہے۔
ان کے مطابق اکیلے سفر میں ہم آپ اپنے آپ کو پہچان لیتے ہیں، کسی کے انتظار کسی کی اجازت ختم ہو جاتی ہے، بعض اوقات لوگ اکیلے ہونے کی وجہ سے باتیں بھی کرتے ہیں تاہم انہیں نظر انداز کر دینا چاہیے۔
وہ مشورہ دیتی ہیں کہ جن بھی علاقوں میں جانا ہو، اس علاقے کی بنیادی معلومات ضرور حاصل کریں، ڈریں نہیں تاہم محتاط رہیں۔
میمونہ مرزا کے مطابق اکیلے سفر کرنے والے افراد اپنے ساتھ وزن کم سے کم اور حوصلہ زیادہ سے زیادہ رکھیں، نقد رقم، فرسٹ ایڈ کٹ سمیت سونے کا سامان کا بھی ضرور بندوبست کریں۔

ان کے مطابق قدرت نے ہمیں اتنا کچھ میسر کیا ہے لیکن بدلے میں ہم سے کچھ نہیں مانگا، ہمیں قدرت کے نظاروں کو ضرور دیکھنا چاہیے، میمونہ مرزا کے مطابق ایک ٹریولر ایک عام انسان کے مقابلے میں بالکل مختلف انداز میں سوچتا اورسمجھتا ہے۔









