Watch FIFA World Cup 2026™

LIVE, FREE and EXCLUSIVE starting June 12 2026

زخمی اور لاوارث جانوروں کا مسیحا، کراچی کا 'ون مین ایمبولینس'

one man ambulance

کراچی (پاکستان) کی مصروف اور ہنگامہ خیز سڑکوں پر ایک ایسی ایمبولینس بھی دوڑتی ہے جو انسانوں نہیں بلکہ بے زبان جانوروں کی مدد کے لیے وقف ہے۔ اس منفرد’ون مین ایمبولینس‘ کے پیچھے سید فیصل ہیں، جو اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر زخمی، بیمار اور لاوارث جانوروں تک پہنچتے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی وہ ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہیں، ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہیں اور جانور کی حالت کے مطابق اسے شیلٹر ہوم منتقل کرنے یا کسی محفوظ ہاتھوں میں دینے کا انتظام کرتے ہیں۔ روزانہ کئی کیسز نمٹانے والے سید فیصل نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ان بے زبان مخلوقات کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے


تاریخِ اشاعت بجے

شائیع ہوا پہلے

ذریعہ: SBS


Share this with family and friends


کراچی (پاکستان) کی مصروف اور ہنگامہ خیز سڑکوں پر ایک ایسی ایمبولینس بھی دوڑتی ہے جو انسانوں نہیں بلکہ بے زبان جانوروں کی مدد کے لیے وقف ہے۔ اس منفرد’ون مین ایمبولینس‘ کے پیچھے سید فیصل ہیں، جو اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر زخمی، بیمار اور لاوارث جانوروں تک پہنچتے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی وہ ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہیں، ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہیں اور جانور کی حالت کے مطابق اسے شیلٹر ہوم منتقل کرنے یا کسی محفوظ ہاتھوں میں دینے کا انتظام کرتے ہیں۔ روزانہ کئی کیسز نمٹانے والے سید فیصل نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ان بے زبان مخلوقات کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے


جانوروں کے لیے خوراک، علاج اور محفوظ پناہ گاہ کا انتظام بھی فیصل کے مشن کا حصہ ہے۔ محدود وسائل کے باوجود سید فیصل اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ان کی موٹر سائیکل ایمبولینس میں ضروری سامان، کیجزاور ابتدائی طبی امداد کی سہولیات ہر وقت موجود رہتی ہیں۔

ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو میں سید فیصل نے بتایا کہ ایک روز انہوں نے بھوک اور پیاس سے نڈھال ایک کتے کو کھانا اور پانی فراہم کیا، جانور کو بے تابی سے کھاتے دیکھ کر انہیں اس کی تکلیف کا شدت سے احساس ہوا اور اسی لمحے سے بے زبان جانوروں کی مدد کا یہ سفر شروع ہوگیا جو آج تک جاری ہے۔

سید فیصل نے اپنی ون مین ایمبولینس کے بارے میں بتایا کہ اس میں جانوروں کیلئے خوراک، کیج اور ریسکیو کے لیے ضروری سامان موجود ہوتا ہے، اُن کے مطابق لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے بیمار یا زخمی جانوروں کی اطلاع دیتے ہیں تو میں فوری طور پر موقع پر پہنچتا ہوں۔

جانور کی حالت دیکھ کر فیصلہ کرتا ہوں کہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہے، شیلٹر ہوم منتقل کرنا ہے یا کسی ایسے فرد کے حوالے کرنا ہے جو اسے اپنانا چاہتا ہو۔

جانوروں کے مسیحا کے مطابق انہیں روزانہ 3 سے 5 کیسز موصول ہوتے ہیں جنہیں وہ انہتائی پروفیشنل انداز میں سرانجام دیتے ہیں۔ ریسکیو ورکر نے بتایا کہ ون مین ایمبولینس کو روزانہ آپریٹ کرنے کیلئے دو سے تین لیٹر فیول خرچ ہوتا ہے، اس کے علاوہ ادویات، جانوروں کی خوراک اور شیلٹر ہوم کے اخراجات بھی اپنی مدد آپ کے تحت برداشت کر رہا ہوں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک بات جو مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اکثر بلی کے بچوں کو ان کی ماں سے الگ کر کے پھینک دیتے ہیں، ایسے میں بچے زندہ نہیں رہ پاتے جبکہ ماں بھی شدید پریشانی کا شکار ہوتی ہے، جس پر بہت زیادہ افسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے بتایا کہ وہ اپنا ایک شیلٹر ہوم قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں بیمار، لاوارث اور زخمی جانوروں کو مناسب خوراک اور علاج کے ساتھ ساتھ محفوظ پناہ بھی فراہم کی جا سکے۔

__________________________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں

Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now