ریگستان، برفانی پہاڑ، دشوار گزار شاہراہیں اور ہزاروں کلومیٹر کا سفر، چار پاکستانی بائیکرز تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے نہ صرف ناروے کے نورڈ کیپ (آرکٹک سرکل) تک پہنچے بلکہ پاکستان رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں پر یہ کارنامہ انجام دینے والی پہلی ٹیم بھی بن گئے۔ گروپ کو لیڈ کرنے والے معروف ٹریولر شیراز سمیع، اُن کے 19 سالہ بیٹے اور دیگر 2 افراد نے یہ منفرد مگر دلچسپ سفر ایک ساتھ کیا۔
پاکستان سے آرکٹک سرکل پہنچنےتک سفر، سفری مشکلات، خوبصورت لمحات اور مقامات کے بارے میں ٹریولر شیراز سمیع نے ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو کی ہے، ایڈونچر ٹریولر شیراز سمیع نے ہمیں بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے سفر اور نئی جگہیں دریافت کرنے کا شوق تھا۔
انہوں نے کہا کہ 2022 میں لاہور سے ایران کے شہر اصفہان تک سفر کیا، جبکہ اسی سال مارچ میں گاڑی کے ذریعے ترکی بھی گئے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سےآرکٹک سرکل تک تقریبا 18 ہزار کلومیٹر کا سفر کر چکے ہیں، جس میں پاکستان کے شہر کراچی سے گوادر، وہاں سے ایران، وہاں سے اور ترکی کے مختلف شہروں، پھر بلغاریہ، شمالی مقدونیہ، مونٹی نیگرو، البانیہ، کروشیا، بوسنیا، سربیا، ہنگری، سلواکیہ، پولینڈ، لیٹویا، ایسٹونیا، فن لینڈ، ناروے اور سویڈن سے گزرا، جبکہ اس وقت وہ اوسلو میں موجود ہیں۔

شیراز سمیع نے کہا کہ ایسے طویل اور دشوار گزار سفر صرف شوق سے ممکن نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے ہمت، حوصلہ، وقت اور مالی وسائل بھی درکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مہم میں اپنے 19 سالہ بیٹے کو ساتھ شامل کرنے کا مقصد اسے عملی زندگی کے تجربات سے روشناس کرانا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سفر کے دوران باپ بیٹے کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے اور انہیں ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملا۔ شیراز سمیع کے مطابق سفر کے دوران کئی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ایران سے ترکی میں داخل ہوتے وقت منفی 17 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے باعث انہیں عارضی طور پر سفر روکنا پڑا، جبکہ بعد ازاں پولینڈ کے سرحدی پہاڑی علاقے میں موٹر سائیکل میں فنی خرابی آنے سے بھی مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اہل خانہ ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، جس سے ایسے طویل سفر آسان ہو جاتے ہیں۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی





