SKIP TO MAIN CONTENT

چائے کے ہوٹل سے عالمی چیمپئن بننے تک، کک باکسر آغا کلیم کی ناقابلِ یقین جدوجہد

WhatsApp Image 2026-08-19 at 04.52.30.jpeg
Source: SBS / Ehsan Khan

دن کے آٹھ گھنٹے چائے کے ہوٹل پر کام، پھر تھکے ہوئے جسم کے ساتھ کک باکسنگ کی سخت ٹریننگ، یہ کسی فلم کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کے عالمی چیمپئن آغا کلیم کی زندگی ہے۔ وسائل محدود ہیں، خوراک اور پروٹین کے لیے پیسے نہیں، بیرونِ ملک تربیت کا خرچ برداشت کرنا بھی ممکن نہیں، مگر ان تمام مشکلات کے باوجود آغا کلیم نے اپنے خواب کو زندہ رکھا اور عالمی رِنگ میں پاکستان کا پرچم بلند کیا۔


تاریخِ اشاعت بجے

شائیع ہوا پہلے

پیش کار SBS Urdu

ذریعہ: SBS


Skip to podcast episode content

دن کے آٹھ گھنٹے چائے کے ہوٹل پر کام، پھر تھکے ہوئے جسم کے ساتھ کک باکسنگ کی سخت ٹریننگ، یہ کسی فلم کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کے عالمی چیمپئن آغا کلیم کی زندگی ہے۔ وسائل محدود ہیں، خوراک اور پروٹین کے لیے پیسے نہیں، بیرونِ ملک تربیت کا خرچ برداشت کرنا بھی ممکن نہیں، مگر ان تمام مشکلات کے باوجود آغا کلیم نے اپنے خواب کو زندہ رکھا اور عالمی رِنگ میں پاکستان کا پرچم بلند کیا۔


آغا کلیم اب تک 13 بین الاقوامی فائٹس لڑ چکے ہیں۔ وہ چھ مرتبہ پروفیشنل کک باکسنگ چیمپئن، دو مرتبہ عالمی چیمپئن اور ایک مرتبہ ایشین چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔

آغا کلیم بتاتے ہیں کہ وہ روزانہ آٹھ گھنٹے چائے کے ہوٹل پر کام کرتے ہیں اور ڈیوٹی مکمل ہونے کے بعد اپنی ٹریننگ شروع کرتے ہیں۔ انہیں جو تنخواہ ملتی ہے، وہ گھر بھیج دیتے ہیں، جبکہ کسی فائٹ میں شرکت کے لیے چھٹی لینے پر تنخواہ سے رقم بھی کاٹ لی جاتی ہے۔

کک باکسنگ جیسے سخت کھیل میں مناسب خوراک اور پروٹین انتہائی ضروری ہیں، مگر آغا کلیم کے پاس اکثر ان کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ مالی مشکلات کے باعث انہوں نے متعدد مرتبہ ٹریننگ چھوڑ دی، لیکن لوگوں کی محبت اور حوصلہ افزائی انہیں دوبارہ رِنگ میں لے آئی۔ ان کی جدوجہد کا سب سے مشکل مرحلہ وہ تھا جب پہلی مرتبہ بین الاقوامی مقابلے کے لیے اکیلے تھائی لینڈ گئے۔ مالی وسائل نہ ہونے کے باعث نہ کوئی کوچ ان کے ساتھ تھا اور نہ سپورٹ اسٹاف، لیکن آغا کلیم نے تمام مشکلات کو شکست دیتے ہوئے ایونٹ اپنے نام کرلیا۔

اپنی پہلی بین الاقوامی فتح کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس لمحے کے جذبات الفاظ میں بیان نہیں کیے جاسکتے۔ اتنی کامیابیوں کے باوجود آغا کلیم کو حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی خاطر خواہ سرپرستی نہیں ملی۔ ان کا شکوہ ہے کہ اگر کرکٹ پر خرچ ہونے والے فنڈز کا آدھا حصہ بھی دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں پر لگایا جائے تو وہ عالمی مقابلوں میں پاکستان کے لیے مزید اعزازات حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنی مشکلات کے باوجود آغا کلیم دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ وہ بچوں کو مفت کک باکسنگ کی تربیت دیتے ہیں۔

ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔

______________
ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے , اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے SBS Audio کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ ایپل (آئی فون) یا اینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔ پوڈکاسٹ سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم کا انتخاب کیجئے:  Spotify Podcast , Apple Podcasts

Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now