دن کے آٹھ گھنٹے چائے کے ہوٹل پر کام، پھر تھکے ہوئے جسم کے ساتھ کک باکسنگ کی سخت ٹریننگ، یہ کسی فلم کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کے عالمی چیمپئن آغا کلیم کی زندگی ہے۔ وسائل محدود ہیں، خوراک اور پروٹین کے لیے پیسے نہیں، بیرونِ ملک تربیت کا خرچ برداشت کرنا بھی ممکن نہیں، مگر ان تمام مشکلات کے باوجود آغا کلیم نے اپنے خواب کو زندہ رکھا اور عالمی رِنگ میں پاکستان کا پرچم بلند کیا۔
آغا کلیم اب تک 13 بین الاقوامی فائٹس لڑ چکے ہیں۔ وہ چھ مرتبہ پروفیشنل کک باکسنگ چیمپئن، دو مرتبہ عالمی چیمپئن اور ایک مرتبہ ایشین چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
آغا کلیم بتاتے ہیں کہ وہ روزانہ آٹھ گھنٹے چائے کے ہوٹل پر کام کرتے ہیں اور ڈیوٹی مکمل ہونے کے بعد اپنی ٹریننگ شروع کرتے ہیں۔ انہیں جو تنخواہ ملتی ہے، وہ گھر بھیج دیتے ہیں، جبکہ کسی فائٹ میں شرکت کے لیے چھٹی لینے پر تنخواہ سے رقم بھی کاٹ لی جاتی ہے۔
کک باکسنگ جیسے سخت کھیل میں مناسب خوراک اور پروٹین انتہائی ضروری ہیں، مگر آغا کلیم کے پاس اکثر ان کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ مالی مشکلات کے باعث انہوں نے متعدد مرتبہ ٹریننگ چھوڑ دی، لیکن لوگوں کی محبت اور حوصلہ افزائی انہیں دوبارہ رِنگ میں لے آئی۔ ان کی جدوجہد کا سب سے مشکل مرحلہ وہ تھا جب پہلی مرتبہ بین الاقوامی مقابلے کے لیے اکیلے تھائی لینڈ گئے۔ مالی وسائل نہ ہونے کے باعث نہ کوئی کوچ ان کے ساتھ تھا اور نہ سپورٹ اسٹاف، لیکن آغا کلیم نے تمام مشکلات کو شکست دیتے ہوئے ایونٹ اپنے نام کرلیا۔
اپنی پہلی بین الاقوامی فتح کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس لمحے کے جذبات الفاظ میں بیان نہیں کیے جاسکتے۔ اتنی کامیابیوں کے باوجود آغا کلیم کو حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی خاطر خواہ سرپرستی نہیں ملی۔ ان کا شکوہ ہے کہ اگر کرکٹ پر خرچ ہونے والے فنڈز کا آدھا حصہ بھی دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں پر لگایا جائے تو وہ عالمی مقابلوں میں پاکستان کے لیے مزید اعزازات حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنی مشکلات کے باوجود آغا کلیم دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ وہ بچوں کو مفت کک باکسنگ کی تربیت دیتے ہیں۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔





