SKIP TO MAIN CONTENT

صدیوں پرانے ساز رباب کی روایت کا آخری محافظ سہیل محمد

lead_16x9.jpg
Source: SBS / Ehsan Khan

سازوں کی دنیا میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی کشش نہیں کھوتیں۔ رباب بھی انہی کلاسیکی سازوں میں سے ایک ہے، جس کی دھن آج بھی سننے والوں کو صدیوں پرانی موسیقی اور ثقافت کی یاد دلاتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مشینی دور میں جہاں روایتی ہنر تیزی سے معدوم ہوتے جا رہے ہیں، وہیں سندھ میں ایک ایسا ہنر مند بھی موجود ہے جو اپنے ہاتھوں سے رباب بنا کر نہ صرف اس قدیم فن کو زندہ رکھے ہوئے ہے بلکہ آنے والی نسلوں تک اس ثقافتی ورثے کو منتقل کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔


تاریخِ اشاعت بجے

شائیع ہوا پہلے

ذریعہ: SBS


Skip to podcast episode content

سازوں کی دنیا میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی کشش نہیں کھوتیں۔ رباب بھی انہی کلاسیکی سازوں میں سے ایک ہے، جس کی دھن آج بھی سننے والوں کو صدیوں پرانی موسیقی اور ثقافت کی یاد دلاتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مشینی دور میں جہاں روایتی ہنر تیزی سے معدوم ہوتے جا رہے ہیں، وہیں سندھ میں ایک ایسا ہنر مند بھی موجود ہے جو اپنے ہاتھوں سے رباب بنا کر نہ صرف اس قدیم فن کو زندہ رکھے ہوئے ہے بلکہ آنے والی نسلوں تک اس ثقافتی ورثے کو منتقل کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔


سہیل محمد سندھ (پاکستان) کے واحد رباب ساز ہیں، جن کی ورکشاپ سے تیار ہونے والا ہر رباب محض ایک ساز نہیں بلکہ صبر، محنت اور برسوں کی مہارت کی داستان بھی اپنے اندر سموئے ہوتا ہے۔

سہیل محمد بتاتے ہیں کہ وہ رباب سازی کے لیے شہتوت کی لکڑی استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک رباب مکمل تیار کرنے میں تقریباً 25 دن لگتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رباب بنانے کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی پشاور سے منگوائی جاتی ہے۔ ان کے بقول اس کام میں مشینوں پر انحصار نہیں کیا جاتا بلکہ زیادہ تر مراحل آج بھی ہاتھ سے مکمل کیے جاتے ہیں۔

سہیل محمد کے مطابق گلگت بلتستان، ہنزہ اور بلوچستان میں رباب کی مانگ زیادہ ہے، جہاں موسیقی سے وابستہ افراد اور شوقین اس ساز کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رباب کی قیمت اس پر آنے والی لاگت، صرف ہونے والے وقت اور محنت کے مطابق رکھی جاتی ہے، اسی لیے ایک رباب 25 ہزار روپے سے لے کر لاکھوں روپے تک فروخت ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جدید موسیقی کے آلات کتنے ہی جدید کیوں نہ ہو جائیں، رباب کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا کیونکہ یہ ایک کلاسیکی ساز ہے جس کی اپنی الگ آواز، تاریخ اور شناخت ہے۔

سہیل محمد دعویٰ کرتے ہیں کہ وقت کے ساتھ رباب کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی لوگ ان سے رباب تیار کروا کر منگواتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی نسل نہ صرف رباب میں دلچسپی لے رہی ہے بلکہ اسے نہایت خوبصورتی سے بجا بھی رہی ہے، اسی لیے انہیں یقین ہے کہ یہ فن مستقبل میں بھی زندہ رہے گا۔ سہیل محمد کہتے ہیں اگر سرکاری تعاون اور جدید مشینری میسر آ جائے تو نہ صرف رباب سازی کے اس ہنر کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر بھی بہتر انداز میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

(ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔)

______________

ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے , اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے SBS Audio کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ ایپل (آئی فون) یا اینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے۔ پوڈکاسٹ سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم کا انتخاب کیجئے:  Spotify Podcast , Apple Podcasts


Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now