لیاری کی گلیوں میں پلنے والی ایک آواز، جو کبھی گھر والوں سے چھپ کر ریپ کرتی تھی، آج انہی گلیوں کی کہانی دنیا کو سنانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ صرف آٹھ سال کی عمر میں ریپ کا شوق پالنے والے وقاص نے وقت کے ساتھ اپنی اسی آواز کو ’’کاکے تھاؤزنڈ‘‘ کے نام سے ایک منفرد شناخت دے دی۔ لیاری کی اسٹریٹ لائف، یہاں کے لوگوں اور گلی محلوں کے رنگ کو اپنے ریپ میں سمیٹنے والے کاکے تھاؤزنڈ چاہتے ہیں کہ ان کی موسیقی کے ذریعے دنیا، لیاری کو ایک مختلف انداز سے دیکھے۔ پٹاری میوزک پر گانے ’’کاکے‘‘ سے ملنے والی پذیرائی نے اس سفر کو نئی پہچان دی۔
کاکے تھاؤزنڈ نے بتایا کہ ریپ کوئی اچانک شروع ہونے والا شوق نہیں تھا۔ وہ صرف آٹھ سال کی عمر سے ریپ کرنے لگے تھے۔ گھر میں بڑے بھائی انہیں ریپ سے دور رہنے اور پڑھائی پر توجہ دینے کا کہتے تھے، اسی لیے وہ چھپ چھپ کر ریپ کی مشق کیا کرتے تھے۔ ایک دن ان کے بھائی نے انہیں ریپ کرتے ہوئے پکڑ لیا۔ لیکن ڈانٹ پڑنے کے بجائے اس بار معاملہ کچھ مختلف نکلا۔ کاکے نے جب اپنے بھائی کو ریپ سنا کر دکھایا تو انہیں یہ انداز بہت پسند آیا اور یہی لمحہ ان کے لیے آگے بڑھنے کی ایک وجہ بن گیا۔ اس کے بعد کاکے نے اپنا گانا ’’کاکے‘‘ پٹاری میوزک پر شیئر کیا۔ جس پر کافی مثبت ردِعمل سامنے آیا۔ کاکے تھاؤزنڈ بتاتے ہیں کہ ان کا پہلا گانا بنانے کے لیے دوستوں نے مکمل فنڈنگ کی تھی۔ بعد میں جب ان کے کام کو پذیرائی ملنے لگی تو دوسرے گانوں کے لیے بھی انہیں فنڈنگ مل گئی اور یوں میوزک بنانے کا سلسلہ آگے بڑھتا گیا۔ آٹھ سال کی عمر میں صرف ریپ کا شوق تھا، بھائی آصف بالی کے کہنے پر میوزک سیکھا، ساتھ ہی پروڈیسنگ کرنے بھی لگا۔
کاکے تھاؤزنڈ اپنے منفرد نام کے حوالے سے کہتے ہیں ریپ کی دنیا میں نام کی بھی اپنی الگ پہچان ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر ریپر اپنا اصل نام استعمال کرے، تاہم میری خواہش تھی کہ میرا نام بھی ایسا ہو جو سب سے الگ اور منفرد نظر آئے۔ وقاص کہتے ہیں انہوں نے اپنی موسیقی میں لیاری اور کراچی کی اسٹریٹ لائف کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم کاکے تھاؤزنڈ کا ماننا ہے کہ ان کے میوزک کی اصل پہچان صرف ان کا نام نہیں، بلکہ وہ دنیا ہے جسے وہ اپنے گانوں میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔





