کسی کے ہاتھ میں سوئی ہے، کسی کے ہاتھ میں دھاگا اور کسی کے ہاتھ مٹی کو شکل دے رہے ہیں۔ یہ صرف ہنر مند ہاتھ نہیں، بلکہ ایسے ہاتھ ہیں جو محدود وسائل کے باوجود اپنے گھروں کے چولہے بھی جلا رہے ہیں اور سندھ کی صدیوں پرانی روایت کو بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ دیہات کی چار دیواری میں برسوں سے خاموشی سے ہنر دکھانے والی سندھ کی ہزاروں خواتین کو اپنی محنت لوگوں تک پہنچانے کا موقع ملا 18ویں سرتیوں سنگ کرافٹ نمائش میں، جہاں سندھ کے 15 اضلاع سے تعلق رکھنے والی 6 ہزار سے زائد دیہی خواتین کی ہاتھ سے تیار کردہ اشیا پیش کی گئیں
رلی، کڑھائی، اجرک، سندھی ٹوپی، روایتی ملبوسات، زیورات اور مٹی کے کام میں صرف رنگ اور نقش نہیں، بلکہ ان خواتین کی محنت، خواب اور اپنی زندگی بہتر بنانے کی جدوجہد بھی نظر آتی ہے۔ یہ نمائش صرف دستکاری کی نمائش نہیں، بلکہ ان ہاتھوں کو پہچان دینے کی ایک کوشش ہے، جن کی محنت اکثر گھروں کی چار دیواری تک محدود رہ جاتی ہے، سندھی ثقافت کو اجاگر کرنے والی اس نمائش میں رلیاں فروخت کرنے والی ہدایت خاتون کہتی ہیں کہ ایک رلی مکمل کرنے میں ایک سے دو سال تک لگ جاتے ہیں۔
ان کے لیے یہ کام صرف آمدن کا ذریعہ نہیں، بلکہ عزت اور اپنے ہنر کی پہچان بھی بن رہا ہے۔ سکھر سے آنے والی حاجیانی مہر کے مطابق ماضی میں ان کے ہنر کو وہ پذیرائی نہیں ملتی تھی جو ملنی چاہیے تھی، تاہم اب ایسی نمائشوں کے ذریعے روایتی دستکاری کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے کاریگروں کے کام کو نئی شناخت مل رہی ہے۔ موہنجو داڑو سے تعلق رکھنے والی عظمیٰ سولنگی اپلیک کا کام کرتی ہیں۔
ان کے مطابق پہلے وہ زیادہ تر گھر میں بیٹھ کر کام کرتی تھیں اور انہیں اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ خریدار کس طرح کا کام پسند کرتے ہیں، لیکن اس نمائش نے انہیں براہِ راست لوگوں سے ملنے اور مارکیٹ کی طلب سمجھنے کا موقع دیا۔ نمائش میں آنے والے ایک خاتون شہری کے لیے بھی یہ تجربہ کسی نئی دریافت سے کم نہیں رہا۔ شہری کے مطابق پہلے روایتی ملبوسات اور ہاتھ سے بنی خوبصورت اشیا خریدنے کے لیے دیہات کا رخ کرنا پڑتا تھا، لیکن اب یہی نایاب اور خوبصورت کام شہر میں دستیاب ہے۔
ایک شہری نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ سندھ کے ہر ضلع کی دستکاری کا انداز دوسرے علاقوں سے مختلف ہے، مگر افسوس کہ اتنی محنت کرنے والی خواتین کو اکثر ان کی محنت کا جائز معاوضہ نہیں مل پاتا۔ نمائش میں شریک ایک خاتون نے بتایا کہ بہت سی کاریگر خواتین ایسے علاقوں سے آتی ہیں جہاں بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات تک پوری طرح دستیاب نہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے ہاتھوں کا کام انتہائی نفیس اور شاندار ہے۔ نمائش کے کنسلٹنٹ جمیل احمد کے مطابق قمبر شہداد کوٹ، بدین، مٹھی، عمرکوٹ، تھرپارکر، جیکب آباد اور خیرپور سمیت مختلف اضلاع کی خواتین نے اپنے روایتی ہنر کو یہاں پیش کیا، جس کا مقصد ایک طرف ان قدیم ہنروں کو ختم ہونے سے بچانا ہے تو دوسری جانب ان خواتین کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ دلانا بھی ہے۔
(ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔)





