SKIP TO MAIN CONTENT

انقلابی شاعر حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ حبیب باعزت روزگار کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور

Tahira Habib
Credit: supplied by Ehsan Khan

انقلابی شاعر حبیب جالب نے اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ جبر، ناانصافی اور طبقاتی تفریق کے خلاف آواز بلند کی، لیکن ان کے اہلِ خانہ کی اپنی زندگی بھی معاشی مشکلات اور مسلسل جدوجہد سے عبارت رہی۔ حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب آج بھی اپنے خاندان کی کفالت کے لیے مختلف کام کررہی ہیں اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے باعزت روزگار حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اسی کوشش کے تحت انہوں نے لاہور (پاکستان) کی کریم بلاک مارکیٹ میں گھر کا تیار کردہ کھانا فروخت کرنے کے لیے ایک اسٹال قائم کیا، مگر ان کے مطابق انتظامیہ نے صرف ایک روز بعد ہی اسے ہٹوا دیا۔


تاریخِ اشاعت بجے

شائیع ہوا پہلے

ذریعہ: SBS


Skip to podcast episode content

انقلابی شاعر حبیب جالب نے اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ جبر، ناانصافی اور طبقاتی تفریق کے خلاف آواز بلند کی، لیکن ان کے اہلِ خانہ کی اپنی زندگی بھی معاشی مشکلات اور مسلسل جدوجہد سے عبارت رہی۔ حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب آج بھی اپنے خاندان کی کفالت کے لیے مختلف کام کررہی ہیں اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے باعزت روزگار حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اسی کوشش کے تحت انہوں نے لاہور (پاکستان) کی کریم بلاک مارکیٹ میں گھر کا تیار کردہ کھانا فروخت کرنے کے لیے ایک اسٹال قائم کیا، مگر ان کے مطابق انتظامیہ نے صرف ایک روز بعد ہی اسے ہٹوا دیا۔


_

طاہرہ حبیب کے مطابق ان کے خاندان کی مالی مشکلات کوئی نئی بات نہیں۔ حبیب جالب کی زندگی میں بھی گھر کے حالات انتہائی دشوار تھے۔ ان کے والد جیل میں ہوتے تو گھر کا کرایہ ادا کرنے، بچوں کی اسکول فیس جمع کرانے اور کھانے پینے کا انتظام کرنے کے لیے بھی پیسے دستیاب نہیں ہوتے تھے۔

بھوک، غربت اور محرومی ان کے خاندان کی زندگی کا حصہ رہی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے حالات کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ 1993 میں حبیب جالب کے انتقال کے بعد گھر کی ذمہ داری طاہرہ حبیب کے کندھوں پر آگئی۔

اہلِ خانہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے مختلف ملازمتیں کیں۔ کبھی پی سی او پر کام کیا تو کبھی ڈرائیونگ سینٹرز میں ملازمت اختیار کی، تاہم ان کاموں کے بدلے ملنے والا معمولی معاوضہ گھر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ روزگار کے ذرائع بدلتے گئے، لیکن طاہرہ حبیب کی جدوجہد جاری رہی۔ وہ آج بھی مختلف آن لائن ٹیکسی سروسز کے لیے گاڑی چلاتی ہیں۔

محدود آمدن کے باعث انہوں نے فیصلہ کیا کہ گھر میں کھانا تیار کرکے فروخت کیا جائے تاکہ خاندان کے لیے آمدن کا ایک اضافی ذریعہ پیدا ہوسکے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے کریم بلاک مارکیٹ میں کھانے کا اسٹال لگایا، لیکن یہ کوشش زیادہ دیر جاری نہ رہ سکی۔

طاہرہ حبیب کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ نے صرف ایک روز بعد ہی انہیں وہاں کام کرنے سے روک دیا۔ ان کے بقول وہ اپنے ہاتھوں سے محنت کرکے روزی کمانا چاہتی ہیں، مگر انہیں کاروبار کرنے کا موقع نہیں دیا جارہا۔

طاہرہ حبیب نے بتایا کہ انہوں نے جون میں متعلقہ حکام کو باقاعدہ درخواست دی تھی، تاہم اس کے باوجود مسئلے کا کوئی مناسب حل نہیں نکالا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، انہیں رسوا کیا گیا اور رات کے اندھیرے میں دھمکیاں بھی دی گئیں۔

دوسری جانب ترجمان ڈپٹی کمشنر لاہور حارث علی نے طاہرہ حبیب کے الزامات پر ضلعی انتظامیہ کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اس پالیسی کے تحت کسی بھی شخص کو غیرمجاز مقام پر ریڑھی، اسٹال یا دوسری تجاوزات قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔

___________________________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں

Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now