کراچی (پاکستان) کے پسماندہ اور طویل عرصے سے نظرانداز کیے جانے والے علاقے کٹی پہاڑی میں ریوا خان نے تعلیم سے محروم بچوں کے لیے امید کا ایک نیا چراغ روشن کیا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ریوا خان ایک ایسا مفت اسکول چلا رہی ہیں جہاں غربت اور چائلڈ لیبر کے باعث اسکول نہ جانے والے بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ تخلیقی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے مواقع بھی فراہم کیے جارہے ہیں۔ وسائل کی کمی، محدود جگہ، مقامی سطح پر پھیلائی گئی غلط فہمیوں، دھمکیوں اور حملوں کے باوجود ریوا خان نے اپنا تعلیمی مشن جاری رکھا۔ ابتدا میں اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے خوف زدہ والدین اب نہ صرف ان پر اعتماد کرتے ہیں بلکہ انہیں اس تبدیلی کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں
بلوچستان (پاکستان) سے تعلق رکھنے والی ریوا خان کہتی ہیں کہ ان کے دل میں شروع سے ہی بچوں کے لیے کچھ کرنے کی خواہش موجود تھی، تاہم اسکول قائم کرنے کا پہلے سے کوئی باقاعدہ منصوبہ نہیں بنایا گیا تھا۔ حالات اچانک اس سمت میں لے گئے اور یوں تعلیم کا یہ سفر شروع ہوگیا۔
ان کے مطابق کٹی پہاڑی کے بیشتر گھرانوں کے بچے غربت کے باعث چائلڈ لیبر سے وابستہ ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تعلیم بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جب ان کی ٹیم ضرورت مند خاندانوں کو راشن فراہم کرنے جاتی تو والدین سے پوچھا جاتا کہ اگر ان کے گھر کا راشن فراہم کردیا جائے تو کیا وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں گے؟ والدین کی رضامندی کے بعد بچوں کو اسکول لانے کا سلسلہ شروع ہوا۔

وہ کہتی ہیں کہ اسکول میں زیرِ تعلیم بچوں کو صرف روایتی نصابی تعلیم تک محدود نہیں رکھا جاتا۔ ان کے لیے معروف مقامی اور بین الاقوامی پبلشرز کی کتابیں استعمال کی جاتی ہیں، جبکہ بچوں کی ذہنی اور تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لیے غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
ریوا خان بتاتی ہیں کہ کام کے آغاز پر علاقے میں ان کے بارے میں کئی غلط فہمیاں اور افواہیں پھیلائی گئیں۔ بعض لوگوں نے یہ تاثر دیا کہ شاید کوئی خاتون فنڈنگ لے کر بچوں کو اسلام سے دور کرنے آئی ہے یا انہیں اغوا کرلیا جائے گا۔

وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ شروعات میں والدین کو خدشہ تھا کہ کہیں ان کے بچوں کے ساتھ کوئی غلط سلوک نہ ہو، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کے تحفظات دور ہوتے گئے۔ ریوا خان کا کہنا ہے کہ ہر بچے کو تعلیم فراہم کرنا بنیادی طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سرکاری نظام کی ناکامی اور تعلیمی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ان جیسے نجی فلاحی اداروں کو آگے بڑھ کر یہ ذمہ داری نبھانا پڑ رہی ہے۔





