ایک ایسے معاشرے میں جہاں اکثر لوگ اپنے فائدے کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔
عمران بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں، جو حجامت کو صرف روزی کا ذریعہ نہیں بلکہ نیکی کمانے کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ وہ مستحق بچوں اور ضرورت مند افراد کے بال مفت کاٹتے ہیں، تاکہ عید جیسی خوشیوں بھری گھڑی میں کوئی بھی خود کودوسروں سے پیچھے نہ محسوس کرے،اُدھر ایک ایسی بہادر لڑکی، جس نے اپنی زندگی دوسروں کیلئے وقف کر دی ہے، دردِ دل رکھنے والی اس لڑکی کی خواہش ہے کہ کوئی بھی پاکستانی بچہ، کسی بھی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے معذور نہ رہے.
ماہین بتاتی ہیں کہ جب بچوں کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھتی گئی، تو ہمیں نئی جگہ تلاش کرنی پڑی، ایسے میں سب دوستوں نے چندہ جمع کر کے ضروری اشیا خریدیں اور بچوں کی پڑھائی جاری رکھنے کا انتظام کیا۔ ماہین واحد بلوچ کے مطابق وہ اپنے ادارے میں آنے والے بچوں کو کام کرنے سے روک نہیں سکتیں تھیں، کیوں کہ وہ ان کا زریعہ معاش ہے، تاہم تعلیم کا کام ہم کر سکتے تھے لہذا وہ ہم نے جاری رکھا ہوا ہے۔
مستاگ فاؤنڈیشن کی روح رواں کے مطابق مفت تعلیم دینے اور اسکلز سکھانے کے باوجود، ہمیں کچھ لوگوں کی جانب سے بہت زیادہ پریشان کیا گیا، وہ نہیں چاہتے تھے کہ علاقے کے بچوں کو فری میں تعلیم دی جائے بلکہ وہ ہمارے کمیونٹی سینٹر پر قبضہ کرنے کیلئے کوشاں رہے اور بعد ازاں وہ لوگ اس میں کامیاب بھی ہوئے، جس پر مجھے کافی زیادہ مایوسی ہوئی۔
انہوں نے اپنے ادارے سے متعلق مزید بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی فاؤنڈیشن میں لڑکیوں کو بیوٹیشن کورسز اور لڑکوں کو جدید اسکلز سکھائے جاتے ہیں، ساتھ ہی جو بچے اسکول میں داخلہ لینا چاہتے تھے انہیں مفت میں اسکول میں داخلہ کروایا جاتا تھا جبکہ منشیات کے عادی بچوں کیلئے بھی کلاسسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔




