اسمار حسین کی کہانی صرف فوٹوگرافی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس باصلاحیت فوٹو گرافر نے مشکل وقت میں اپنی تصویریں بیچ کر بیواؤں کے لیے گھر تعمیر کروائے، سیلاب متاثرین کے درمیان جا کر بحالی کا کام کیا، اسپیشل بچوں کو فوٹوگرافی سکھائی تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے اس بیٹے اسمار حسین کی کہانی کا آغاز ہوتا ہے، سال 2008 سے، جب اُن کے والد کے قتل، محدود وسائل، ہجرت اور والدہ کی ایک خواہش نے انہیں فوٹو گرافر بننے پر مجبور کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ابتدا میں ہر قدم پر آزمائش موجودتھی، کبھی پیسے نہیں ہوتے تھے، کبھی سفر ممکن نہیں ہوتا تھا، کبھی نوکری آڑے آ جاتی تھی۔ موسمِ خزاں کی فوٹوگرافی کے لیے جب بار بار چھٹی نہ ملی تو انہوں نے کئی بار نوکری سے استعفیٰ بھی دے دیا۔
اسمار حسین سال 2012 سے مسلسل شمالی علاقہ جات کو کور کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایسی چھپی ہوئی وادیوں اور مقامات کو اپنی تصاویر کے ذریعے متعارف کرایا جنہیں دیکھ کر نہ صرف غیر ملکی بلکہ خود پاکستانی بھی حیران رہ جاتے ہیں، لوگ اکثر پوچھتے تھے، کیا یہ واقعی پاکستان ہے؟اسمار حسین کے شاندار کام کی بدولت سال 2014 میں نیشنل جیو گرافک نے ان کی بنائی گئی تصویر کو اپنے کور پیج پر شائع کیا، جسے وہ اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔
خداداد صلاحیتوں کے حامل اس فوٹو گرافر کی کامیابیوں کا سلسلہ یہیں تھما نہیں بلکہ سال 2022 میں جدید کیمرے بنانے والے معروف عالمی برانڈ سونی نے پاکستان میں انہیں لینڈ اسکیپ فوٹوگرافی کے لیے برانڈ ایمبیسڈر منتخب کیا، اسی سال جب بدترین سیلاب نے ڈیرہ اسماعیل خان کے بیشتر علاقوں کو تباہ کیا، تو انہوں نے صرف تصاویر بنا کر کہانی سنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ بحالی کے کاموں میں حصہ لیا، اور پھر ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے ان کے کام کو نیا مقام دیا، اسمار حسین نے اپنی تصاویر فروخت کر کے کئی بیواؤں کے لیے گھر تعمیر کروائے۔ اسمار حسین کو ان کے شاندار کام کی بدولت نہ صرف صوبائی، بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔





