اشتیاق احمد انصاری کے مطابق سال 2015 میں ایک حادثے نے انہیں جسم کے نچلے حصے سے محروم کر دیا تھا، یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے نہ صرف جسمانی حالت بلکہ ذہنی کیفیت کو بھی بری طرح متاثر کیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت ہمت ٹوٹ چکی تھی اور وہ دوسروں کے محتاج ہو کر رہ گئے تھے۔ اشتیاق کے مطابق، ان کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب نے انہیں سنبھالا۔ انہیں احساس دلایا گیا کہ وہ گھر کے ذمہ دار فرد ہیں اور ہمت ہارنا کوئی حل نہیں۔
یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے خود کو سنبھالا اور زندگی کو نئے انداز سے جینے کا فیصلہ کیا۔ الیکٹریکل انجینئر کے مطابق کچھ ہی عرصے بعد روزگار پر واپس آنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ آمدورفت پر خرچ ہونے والے اخراجات اور مشکلات نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے گاڑی بھی لی، مگر مسائل مکمل طور پر حل نہ ہو سکے۔
اسی جدوجہد کے دوران ان کے ذہن میں ایک نیا خیال آیا، کیوں نا ایک ایسی سواری بنائی جائے جو معذور افراد کے لیے آسان، سستی اور کارآمد بھی ہو۔ سال ہہ سال کی محنت کے بعد وہ ٹرائی رائیڈ بنانے میں کامیاب ہوہی گئے۔
اشتیاق بتاتے ہیں کہ آج وہ ایسے معذور افراد کے لیے خصوصی ٹرائی رائیڈ تیار کر رہے ہیں جو نہ صرف ان کی ضروریات کے مطابق ہوتی ہے بلکہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور خراب راستوں پر بھی آسانی سے چل سکتی ہے۔
اشتیاق احمد کے مطابق ہماری اس کاوش کی وجہ سے کئی لوگ دوبارہ اپنے معمولات زندگی کی انجام دہی میں خود مختار بھی ہوگئے ہیں۔





