پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے دوسرے بڑے صوبے سندھ کے ایک چھوٹے شہر ٹنڈو اللہ یار سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت فنکار لکھمن داس نے محدود وسائل اور بے شمار مشکلات کے باوجود مجسمہ سازی کے فن میں اپنی الگ پہچان بنالی ہے۔ مٹی کے بے جان ڈھیروں کو انسانی چہروں اور شخصیات کی شکل دینے والے لکھمن داس سابق وزیراعظم عمران خان، بینظیر بھٹو اور قائداعظم محمد علی جناح سمیت متعدد معروف شخصیات کے مجسمے تیار کر چکے ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم یوٹیوب سے سیکھے گئے ہنر کو مسلسل محنت اور مشق کے ذریعے نکھارنے والے اس باصلاحیت فنکار کے ہاتھوں میں مٹی، ایک نئی زندگی اختیار کر لیتی ہے۔
فن سے بے پناہ محبت رکھنے والے لکھمن داس آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، مناسب جگہ نہ ہونے کے باعث کھلے آسمان تلے کام کرنا پڑتا ہے، جہاں دھوپ مٹی کو جلد خشک کر دیتی ہے اور تخلیقی عمل متاثر ہوتا ہے۔
معاشی مشکلات کے باوجود وہ اپنے خواب سے دستبردار نہیں ہوئے اور چاہتے ہیں کہ یہ فن صرف ان تک محدود نہ رہے بلکہ نئی نسل تک بھی منتقل ہو۔
ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے لکھمن داس نے بتایا کہ میں پہلے مورتی سازی کرتا تھا، بعدازاں مجسمے بنانے کا کام بھی شروع کر دیا۔ اب تک سابق وزیراعظم عمران خان، محترمہ بینظیر بھٹو اور قائداعظم محمد علی جناح سمیت متعدد مجسمے تیار کر چکا ہوں۔
انہوں نے مجسمے کی تیاری کے حوالے سے بتایا کہ سب سے پہلے مٹی کو گیلا کیا جاتا ہے، پھر ایک اسٹرکچر بنا کر اس پر مٹی چڑھائی جاتی ہے اور آخر میں کلے ٹول کی مدد سے مجسمے کی شکل مکمل کی جاتی ہے۔
مجسمہ سازی کے ہنر کے حوالے سے لکھمن نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے یہ فن کسی استاد کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارم یوٹیوب سے سیکھا ہے۔ لکھمن کا کہنا میں اپنے ہنر کے زریعے اپنے شہر، صوبے اور ملک کا نام روشن کرنا چاہتا ہوں۔
لکھمن داس کے مطابق والد کے انتقال کے بعد گھر میں بہت زیادہ معاشی تنگی تھی، جس کی وجہ سے والدہ میرے اس کام سے خوش نہیں تھی، وہ چاہتی تھیں کہ میں محنت مزدوری کر کے کچھ کما سکوں تاکہ روزہ مرہ کے اخراجات برداشت کیے جا سکیں۔
لکھمن داس نے اعلیٰ حکام سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے کام کے لیے کوئی مناسب جگہ فراہم کر دی جائے تو میں نہ صرف بہتر انداز میں کام کر سکوں گا بلکہ اس فن کو سیکھنے والے نوجوانوں کی بھی تربیت کر سکوں گا، جس سے یہ ہنر مزید فروغ پائے گا۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی





