دنیا بھر میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت، آلودگی اور سیوریج کے ناقص نظام کے باعث سالانہ لاکھوں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے میں ایک پاکستانی سائنسدان کی تحقیق امید کی نئی کرن بن کر سامنے آئی ہے۔ انوائرمنٹل انجینئر مبشر سلیم نے شمسی توانائی سے چلنے والا جدید سولر پاورڈ پلازما واٹر ٹریٹمنٹ سسٹم تیار کیا ہے، جو کم لاگت میں سیوریج کے پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستانی انجنئیر کی جانب سے تیار کی گئی جدید ٹیکنالوجی ایک ہی مرحلے میں پانی سے بیکٹیریا، انسانی فضلہ، فارماسیوٹیکل آلودگی، مضر کیمیکلز اور دیگر خطرناک آلودگیوں کو بڑی حد تک ختم کر سکتی ہے
انوائرمنٹل انجینئر مبشر سلیم نے ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کہ ان کی تحقیق کا بنیادی مقصد ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے لیے جدید پلازما ٹیکنالوجی کی تیاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولر پاورڈ پلازما سسٹم کا مقصد کم لاگت میں پانی کو مؤثر طریقے سے صاف کرنا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ریسرچر نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی ایک ہی مرحلے میں پانی سے انسانی فضلہ، بیکٹیریا، فارماسیوٹیکل آلودگی اور مختلف کیمیکلز کو ختم کر سکتی ہے، جبکہ روایتی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں یہی عمل کئی مراحل اور زیادہ وقت میں مکمل ہوتا ہے۔ مبشر سلیم کے مطابق اس نظام میں ہائی وولٹیج کے ذریعے پلازما پیدا کیا جاتا ہے، جو پانی میں موجود خطرناک جراثیم، کیمیکلز اور دیگر آلودگی کو ختم کر دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزمائشوں کے دوران پانی سے 95 فیصد سے زائد آلودگی ختم ہو چکی ہے تاہم پینے کے قابل بنانے کے لیے پانی کو ایک اضافی مرحلے سے گزارنا ضروری ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صاف کیا گیا پانی زراعت، باغبانی اور صنعتی استعمال کے لیے موزوں ہے۔
ان کے مطابق کراچی میں روزانہ تقریباً 450 سے 500 ملین گیلن سیوریج کا پانی پیدا ہوتا ہے، اگر اس کا کچھ حصہ بھی ٹریٹ کر لیا جائے تو شہر کے اطراف زرعی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور شہری ماحول کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ مبشر سلیم نے مزید کہا کہ گندے پانی کو دور دراز ایریا میں منتقل کرنے کے بجائے مقامی سطح پر ہی سولر پلازما سسٹمز نصب کر کے اسے وہیں قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے، جبکہ کمیونٹیز کی ضرورت کے مطابق ان کی استعداد بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔
مبشر سلیم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، اور ان کی خواہش ہے کہ ان کی تحقیق اس مسئلے پر قابو پانے میں مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو سائنسی حلقوں میں پذیرائی ضرور ملی ہے، تاہم اب تک اس حوالے سے کسی ادارے کی جانب سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو عوامی فلاح کے منصوبوں میں ضرور استعمال کیا جائے گا۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔





