کہانی ایک ایسے نوجوان کی کہ جس نے اپنے پہلے ہی بین الاقوامی مقابلے میں جونیئر مسٹر یونیورس کا اعزاز جیت کر دنیا کو حیران کر دیا۔ سندھ پولیس (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے باڈی بلڈر اطہر جہان نے تھائی لینڈ میں منعقدہ مسٹر یونیورس 2026 چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل جیت کر نہ صرف پاکستان کا پرچم بلند کیا بلکہ یہ ثابت کر دیا کہ عزم، محنت اور مستقل مزاجی کے سامنے کوئی خواب بڑا نہیں ہوتا۔ ایک عام پاکستانی نوجوان سے عالمی چیمپیئن بننے تک کا ان کا سفر اس بات کی زندہ مثال ہے کہ کامیابی قسمت سے نہیں بلکہ کڑی محنت اور لگن سے حاصل ہوتی ہے۔
اطہر جہان کی کامیابی کے پیچھے برسوں کی مسلسل محنت، قربانیاں اور اپنے مقصد سے بے لوث وابستگی چھپی ہے۔ تھائی لینڈ سے گولڈ میڈل اور جونیئر مسٹر یونیورس کا ٹائٹل جیت کر وطن واپس آنے والے اطہر جہان نے صرف ایک مقابلہ نہیں جیتا بلکہ ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو یہ یقین بھی دلایا ہے کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو کوئی بھی کامیابی حاصل کرنا ناممکن نہیں۔ اپنی شاندار کامیابی کے بارے میں ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اطہر جہان نے بتایا کہ وہ گزشتہ 6 برسوں سے اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے، یقین نہیں آرہا ہے کہ جونیئر مسٹر یونیورس کا ٹائٹل اپنے نام کر چکا ہوں۔
نوجوان باڈی بلڈر کے مطابق انہیں 2 ماہ قبل تک اس مقابلے کے بارے میں معلوم بھی نہیں تھا، جسیے ہی پتہ چلا، تیاریاں تیز کیں، ڈائیٹ کا خصوصی خیال رکھا اور جم کر محنت کی، جس کا پھل بھی مل گیا۔ اپنی کامیابی کے بارے میں انہوں نے کہا اس ٹائٹل کو حاصل کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ میں تھکتا نہیں ہوں، کوئی بھی تہوار ہو، موقع ہو، عام دن ہو یا پھر چھٹی کا دن، میں اپنی ٹریننگ جاری رکھتا ہوں۔ سندھ پولیس میں نوکری اور باڈی بلڈنگ چھوڑنے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ملازمت کی وجہ سے ابتدائی 6 ماہ تک اپنے شوق کو پسِ پشت ڈال دیا تھا تاہم اعلیٰ افسران کے تعاون سے ڈیوٹی معاف ہوئی تو ایک بار پھر اپنے شوق کی جانب راغب ہوا اور مقابلوں کیلئے اپنی تیاریاں شروع کیں۔ نوجوان باڈی بلڈر کے مطابق جونیئر مسٹر یونیورس بن کر واپس پاکستان آنے پر ناقابل یقین استقبال کیا گیا، جس کی خوش ناقابل بیان ہے۔
(ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔)





