Watch FIFA World Cup 2026™

LIVE, FREE and EXCLUSIVE

جالیوں سے ناقابل یقین فن پارے بنانے والا پاکستان کا پہلا ’وائر میش آرٹسٹ‘ ساجد امیری

Pakistan's first wire mesh artist transforms ordinary metal mesh into extraordinary art.jpg
Pakistan's first wire mesh artist transforms ordinary metal mesh into extraordinary art

گلگت بلتستان (پاکستان) کے بلند و بالا پہاڑ صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل فنکار بھی دنیا کے سامنے لا رہے ہیں، انہی میں سے ایک نام ساجد امیری کا ہے، جنہوں نے عام طور پر گھروں کی کھڑکیوں میں استعمال ہونے والی وائر میش (جالی) کو اپنے فن کا ذریعہ بنا کر ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ پاکستان کے واحد وائر میش آرٹسٹ کے طور پر وہ ایک ایسے میڈیم میں شاہکار تخلیق کر رہے ہیں جسے روایتی طور پر کبھی فنِ مصوری یا مجسمہ سازی کا حصہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔


تاریخِ اشاعت بجے

شائیع ہوا پہلے

پیش کار SBS Urdu

ذریعہ: SBS



Share this with family and friends


گلگت بلتستان (پاکستان) کے بلند و بالا پہاڑ صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل فنکار بھی دنیا کے سامنے لا رہے ہیں، انہی میں سے ایک نام ساجد امیری کا ہے، جنہوں نے عام طور پر گھروں کی کھڑکیوں میں استعمال ہونے والی وائر میش (جالی) کو اپنے فن کا ذریعہ بنا کر ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ پاکستان کے واحد وائر میش آرٹسٹ کے طور پر وہ ایک ایسے میڈیم میں شاہکار تخلیق کر رہے ہیں جسے روایتی طور پر کبھی فنِ مصوری یا مجسمہ سازی کا حصہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔


ان کے فن پارے دور سے دیکھنے پر کسی پینسل اسکیچ کا گمان دیتے ہیں تاہم قریب جا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ بے جان دھاتی جالی کو انتہائی مہارت سے تراش کر تخلیق کیے گئے ہیں۔ باریک بینی، صبر اور کمال مہارت سے تیار کیے گیے ان کے شاہکار نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہے ہیں

ساجد امیری نے وائر میش سے آرٹ بنانے کا کام کیسے اور کب شروع کیا اور کس طرح وہ شاہکار تخلیق کرتے ہیں، ایس بی ایس اردو سے نوجوان آرٹسٹ سے خصوصی گفتگو کی ہےجس میں ساجد نے ہمیں بتایا کہ کس طرح اُن کی یونیورسٹی کے ایک اسائنمنٹ سے یہ سفر اچانک شروع ہوا اور پھر چلتا ہی گیا۔ ساجد کے مطابق وہ کوئی بھی آرٹ بنانے کیلئے صرف اور صرف جالی کا ہی استعمال کرتے ہیں، جس میں جالی کی ایک کے بعد طے انہتائی مہارت سے ترتیب دی جاتی ہے جبکہ آرٹ میں کسی قسم کا کوئی بھی رنگ استعمال نہیں کیا جاتا۔ جالی کاٹنے، شاہکار بنانے کے دوران ہاتھوں کے زخمی ہو جانے کے سوال کے جواب میں نوجوان آرٹسٹ نے کہا کہ ابتدا میں اکثر جالی کاٹتے وقت ہاتھ زخمی ہو جاتے تھے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آرٹ محسوس کرنے کا نام ہے، گلوز پہننے سے وہ احساس جنم نہیں لیتا، جس کی وجہ سے گلوز پہننے سے اکثر پرہیز ہی کرتا ہوں۔

وہ کہتے ہیں میرے بنائے ہوئے آرٹ جب لوگ دیکھتے ہیں تو انہیں آرٹ کے پینسل سے بنائے جانے کا گمان ہوتا ہے تاہم جب وہ اسے قدرے غور سے دیکھتے ہیں تو انہیں پتا چلتا ہے کہ یہ جالی سے بنا ہے جس پر وہ حیران رہ جاتے ہیں۔ ساجد کے مطابق وائرمیش آرٹ کا پاکستان میں اسکوپ موجود ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پراس آرٹ ورک کو زیادہ پذیرائی ملتی ہے۔

(ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔)

_______________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے


Latest podcast episodes

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Stream now