محرم الحرام ہمیں قربانی، ایثار اور خدمتِ انسانیت کا درس دیتا ہے، اسی جذبے کو عملی شکل دیتے ہوئے کچھ پاکستانی نوجوانوں کی ایک ٹیم نے ایک منفرد سبیل کا اہتمام کیا ہے، جو روایتی سبیل سے ہٹ کر نہ صرف پیاس بجھانے کا ذریعہ ہے بلکہ ماحول دوستی کا پیغام بھی دے رہی ہے۔ اس سبیل پر آنے والے ہر شخص کو ایک پودا تحفے میں دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے حصے کا درخت لگا کر ماحول کو سرسبز بنانے میں کردار ادا کرے۔
سماجی تنظیم وہ اِز حسین کے روح رواں جبروت علی نے ایس بی ایس اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ انہیں شہریوں کو سبیل میں پودا دینے کا خیال اچانک ہی آیا تھا، اس حوالے سے دوستوں کے ساتھ مشورہ کیا اور پھر اس پر عمل درآمد شروع کر دیا۔
وہ کہتے ہیں مسلسل سات سالوں سے مختلف علاقوں میں شہریوں کو سبیل میں پودا دینے کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ برس 6 ہزار پودے لوگوں کو دیئے، رواں برس 10 ہزار سے زائد کا ہدف رکھا ہوا ہے۔
جبروت علی نے ہمیں بتایا کہ لوگ انہیں تصویریں اورویڈیوز بھیج کر دکھاتے ہیں کہ کس طرح اُن کا دیا گیا پودا اب آہستہ آہستہ تن آور درخت میں تبدیل ہو رہا ہے۔
جبروت علی کہتے ہیں گلوبل وارمنگ سے پاکستان کا بہت گہرا اثر پڑا ہے، 2014 میں لوگوں کو معلوم ہوا تھا کہ ہیٹ اسٹروک کیا ہوتی ہے، اسی وجہ سے مقامی لوگوں کو وہ پودے دیئےجاتے ہیں جو ماحول دوست ہوں اور اس موسم میں بآسانی ایک مضبوط درخت میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر سبیل میں دیئے گئے ہمارے 10 ہزار پودوں میں سے صرف 10 فیصد بھی مکمل درخت بن جاتے ہیں تو ہمارے سبیل لگانے کا مقصد پورا ہو جائے گا۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔





