آج آپ کو ان بہادر خواتین کے بارے میں بتاتے ہیں جنہوں نے روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی ایک نئی پہچان بنائی۔ اگرچہ یہ خواتین بنیادی تعلیم سے محروم رہیں، لیکن حوصلے، محنت اور عزم کے اعتبار سے کسی سے کم ثابت نہیں ہوئیں۔ سندھ (پاکستان) کے ضلع تھر میں کوئلے کے وسیع ذخائر دریافت ہونے کے بعد نہ صرف علاقے کی معیشت میں تبدیلی آئی بلکہ مقامی خواتین کی زندگیوں میں بھی ایک مثبت انقلاب برپا ہوا۔ ان خواتین نے بطور ڈمپر ڈرائیور خدمات انجام دے کر نہ صرف تھر کے عوام بلکہ پورے پاکستان کو حیران کر دیا۔
تھر میں ایک اندازے کے مطابق تقریباً 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، جہاں حکومتِ پاکستان کی منظوری سے مختلف کمپنیاں کوئلہ نکالنے کا کام کر رہی ہیں۔ انہی کمپنیوں میں شامل سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے مقامی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے 30 خواتین کو بھرتی کیا اور انہیں ڈرائیونگ کی تربیت فراہم کی۔
ابتدائی طور پر خواتین کو خالی ڈمپر چلانے کی تربیت دی گئی، جبکہ بعد ازاں مرحلہ وار انہیں بھرے ہوئے ڈمپرز چلانے کی عملی مشق بھی کروائی گئی۔ آج یہ ہنر مند خواتین نہ صرف باعزت روزگار حاصل کر رہی ہیں بلکہ محنت کے ذریعے اپنے خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
رامو 6 بچوں کی والدہ ہیں اور بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے انہوں نے بھی ڈمپر ڈرائیور بننے کا فیصلہ کیا، وہ کہتی ہیں جب مرد ڈمپرز چلا سکتے ہیں تو ہم بھی کسی سے کم نہیں، ایک اور ڈمپر ڈرائیور نصرت کہتی ہیں معاشی تنگ دستی کے باعث ڈرائیور بننے کا فیصلہ کیا جو آج درست ثابت ہوا۔
آسیہ نامی خاتون ڈرائیور کہتی ہیں غربت کی وجہ سے پڑھائی نہیں کر سکی تھی، شادی ہوئی لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہوئی، میرے چھوٹے بہن بھائیوں ہیں، اب ان کی پڑھائی کو جاری رکھنے کیلئے ڈرائیونگ کر رہی ہوں۔
ماروتی، خواتین ڈمپر ڈرائیورز کی نگرانی کرتی ہیں وہ کہتی ہیں کیونکہ کوئلے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا انتہائی مشکل کام ہے اور وہ کام بھی ہماری خواتین ڈرائیورز کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ہمیں احتیاطی تدابیر بھی زیادہ اختیار کرنا پڑتی ہے، ڈمپرز چلانے والی یہ خواتین اس بات کی روشن مثال ہیں کہ اگر مواقع فراہم کیے جائیں تو عزم و ہمت رکھنے والی خواتین ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی





