یہ کہانی ہے جانوروں کے مسیحا عبدالرحمان کی، جن کی زندگی کا رخ ایک دلخراش واقعے نے بدل دیا، سانپ کے کاٹنے سے ایک معصوم بچے کی افسوس ناک موت نے اس حساس دل نوجوان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، وہ لمحہ جس میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اگر بروقت آگاہی اور ریسکیو کی سہولت موجود ہوتی تو شاید ایک قیمتی جان بچ سکتی تھی، اسی واقعے نے عبدالرحمان کو وائلڈ لائف ریسرچ اور ریسکیو کے راستے پر ڈالا اور یہیں سے ایک خاموش جدوجہد کا آغاز ہوا۔
فطرت کا یہ نگہبان عبدالرحمان 20 ہزار سے زائد جانداروں کو ریسکیو کر کے ان کے قدرتی ماحول میں واپس چھوڑ چکا ہے، وائلڈ لائف کے لیے سرگرم یہ نوجوان کہتا ہے کہ پاکستان میں جنگلی حیات کو سب سے بڑا خطرہ اشرف المخلوقات سے ہے، خاص طور پر اُس انسان سے جو لاعلمی اور خوف میں مبتلا ہو کر کسی جاندار کی جان لے لیتا ہے، اسی سوچ کے تحت بے زبانوں کا یہ محافظ نہ صرف مقامی زبان میں لوگوں کو جانوروں کے حقوق اور حفاظت سے متعلق آگاہی دیتا ہے، ساتھ ہی اس کا ماننا ہے کہ یہ زمین صرف انسانوں کی نہیں، بلکہ ان تمام جانداروں کی بھی ہے جو یہاں صدیوں سے آباد ہیں۔
جنگلی حیات کے لیے سرگرم نوجوان کا کہنا ہے کہ جانوروں سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہیں، خصوصا سانپوں کے کاٹنے کے حوالے سے غلط معلومات، عوام میں خوف پیدا کرتی ہیں اور یہی خوف جان لیوا ثابت ہوتا ہے، اسی لیے وہ ریسرچ کی بنیاد پر لوگوں کو درست معلومات فراہم کرتے ہیں تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔ عبدالرحمان مزید بتاتے ہیں کہ پاکستان میں پرندوں اور جانوروں کو سب سے زیادہ خطرہ مقامی آبادیوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پھیلاؤ سے ہے، جہاں ترقی کے نام پر قدرتی مساکن تباہ کیے جا رہے ہیں، لاعلمی اور خوف کے باعث لوگ جانداروں کو مار دیتے ہیں، حالانکہ اصل مسئلے کا حل آگاہی میں ہے۔
_______________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, “SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے






