کراچی کا یہ کھلا مین ہول صرف ایک بچے کی جان نہیں لے گیا، بلکہ ایک ماں کی دنیا بھی برباد کر گیا، وہ ماں جو اپنے معصوم بچے کو شاپنگ کرانے لائی تھی، اس کے سامنے ہی ننھا ابراہیم گٹر میں گرا اور پانی کے تیز بہاؤ نے لمحوں میں اسے نظروں سے اوجھل کر دیا، اس دوران والدہ کی بے بسی کو پورے ملک نے محسوس کیا، مگر سرکاری اداروں کی نااہلی، تاخیر اور رویے نے لاچار ماں کے اس دکھ کو عوامی غصے میں بدل کر رکھ دیا۔ ریسکیو کے آغاز میں سستی، مشینری کے فیول کے لیے رقم طلب کیے جانے جیسے الزامات اور پندرہ گھنٹے طویل تلاش نے اس سانحے کو صرف حادثہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے، عوامی غصے اور شدید دباؤ کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اہلِ خانہ سے معافی مانگنے پر مجبور ہوئے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ والدین کا درد سمجھ سکتا ہوں، میرے پاس الفاظ نہیں، بغیر کسی الزام تراشی کے میں معافی مانگتا ہوں، بطور میئر کامیاب نہیں ہو سکا۔ انہوں نے ابراہیم کے مین ہول میں گرنے کے بعد ریسکیو اور شہری اداروں کی جانب سے رسپانس کو بھی ناکافی قرار دیا۔
ایس بی ایس اردو کے لیے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔












