ابتدائی طور پر 79 ارب کے تخمینے والے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے میں مسلسل تاخیر کے باعث اس کی نہ صرف لاگت اب 103 ارب روپے سے زائد ہو گئی ہے بلکہ ٹھیکے دار اور سندھ حکومت کے درمیان مسلسل تنازعے کے باعث 2024 کی ڈید لائن والے ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے پر پہلے 2025 کی ڈیڈ لائن دی گئی اور اب اس میں مزید تاخیر کے باعث یہ منصوبہ 2027 میں مکمل ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے.
منصوبے میں شامل اہم شاہراہ یونیورسٹی پر کھدائی اور تعمیراتی کام کی وجہ سے روزانہ لاکھوں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے، دکاندار روڈ کی بدحالی کے باعث گاہکوں کی راہ تک رہے ہیں تو علاقہ مکین دھول مٹی کے باعث بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ ہم ذہنی طور پر پریشان ہو گئے ہیں، اس روڈ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید یہاں کبھی کوئی شاہراہ تھی ہی نہیں۔
شہریوں کی شکاتیں ایک طرف تو دوسری طرف جانب صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن بھی منصوبے میں مسلسل تاخیر پر نالاں ہیں، کہتے ہیں کراچی جیسے شہر میں اس طرح کے منصوبے سے لوگوں کو تکلیف ہے، جس پر ہم معذرت خواہ ہیں۔ شرجیل انعام میمن کے مطابق ٹھیکے دار کے ساتھ کچھ مسائل تھے، ڈالر ریٹ بڑھنے، کنسٹرکشن سامان مہنگا ہونے سے تنازع پیدا ہوا اور منصوبے میں تاخیر ہوئی، تاہم اب پروجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔







