آن لائن ٹیکسی ڈرائیور راؤ سلیم بتاتے ہیں کہ انہوں نے کافی محنت کے بعد ایک گاڑی خریدی اور اسی وقت یہ سوچ لیا تھا کہ جب گاڑی لوں گا تو اپنی گاڑی پر بیٹیوں سے متعلق کوئی ایسا پیغام درج کراؤں گا جس سے لوگ اپنی بیٹیوں کو بوجھ نہ سمجھیں۔
راؤ سلیم کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے میری بیٹیوں کی ولادت ہوئی میرے حالات بہتر سے بہتر ہوئے ہیں، بیٹیاں بوجھ نہیں، بلکہ مجھے ہمت دیتی ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ بیشتر افراد اس پیغام پر مجھے سراہتے ہیں، تاہم بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو اس جملے پر بھی اعتراض کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ایسے لوگوں کو بس یہی کہوں گا کہ اپنی سوچ کو بدلیں۔
راؤ سلیم کا ماننا ہے کہ بیٹیوں کے گھر میں ہونے سے رزق کے دروازے کھلتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ معاشرے میں ہماری بیٹیاں اب بیٹوں کے ساتھ مخلتف شعبہ جات میں اپنی خدمات سرانجام دے رہیں ہیں، انہیں کم تر نہ سمجھا جائے۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔





