ٹری مین آف پاکستان کے نام سے اپنی منفرد پہچان بنانے والے نوجوان شیروز سراج کا خیال ہے کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرناک نتائج کا سامنا کر رہا ہے اور وہ ہر روز اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہا ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر معمولی موسم اور قدرتی آفات نے شیروز سراج کو اس قدر بے چین کیا کہ انہوں نے اکیلے ہی اس سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے لڑنے کےلیے اب تک ایک لاکھ سے زائد پودے لگا چکے ہیں۔
ٹری مین آف پاکستان کو یہ یقین ہے کہ شجرکاری کے ذریعے ہم نہ صرف ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کر سکتے ہیں بلکہ اپنے ایکو سسٹم کو بھی دوبارہ مضبوط بنا سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک زمین پر لگایا گیا ہر ایک پودا انسانوں کے ساتھ ساتھ چرند پرند کے لیے بھی زندگی کا پیغام ہے، تن تنہا اور اپنی تہیں پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچانے کا عزم لیے اس نوجوان نے کہا کہ اگر پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کی بھیانک نتائج سے بچانا ہے تو ملک میں شجر کاری کرنا ہوگی.
شیروز سراج نے مزید بتایا کہ وہ اب تک ایک لاکھ سے زائد پودیں لگا چکے ہیں، جبکہ کراچی (پاکستان) شہر میں مصنوعی جنگل بھی بنا رہے ہیں۔ ٹری مین آف پاکستان کے مطابق انہوں نے اس مہم کا آغاز اپنی گلی محلے سے کیا، ابتدا میں لوگ پودوں کو پانی ڈالنے سے بھی کتراتے تھے تاہم وہ شجر کاری کے ساتھ ساتھ لوگوں کو آگاہی بھی فراہم کرتے ہیں، جس کے مثبت نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔





