سندھ پولیس کی جانب سے ملزم عمران کو گرفتار کرنے کا اعلامیہ سامنے آنے کے بعد والدین میں بھی تشویش کی لہر دوڑ پڑی ہے، مکروہ فعل میں ملوث عمران کو کیسے گرفتار کیا گیا، اور اس کے لیے پولیس کی کیا حکمت عملی اپنائی، اس حوالے سے ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ عثمان سدوزئی نے بتایا کہ ملزم عمران کیخلاف 2020 سے 2025 کے دوران بچوں سے زیادتی کے9 مختلف مقدمات رپورٹ درج ہوئے، جن میں سندھ فرانزک ڈی این اے لیب کی رپورٹس سے ایک ہی شخص کا ڈی این اے مسلسل میچ ہو رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 5 سال تک ایک ہی ڈی این اے کے سامنے آنے پر پولیس نے کارروائی کا آغاز کیا۔
ایس پی عثمان سدوزئی کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے 6 جنوری کو ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی، جبکہ یہ ٹیم ڈی آئی جی انویسٹی گیشن مقدس حیدر کی سربراہی میں بنائی گئی، انویسٹی گیشن ایسٹ پولیس نے محض 11 دن کے اندر مرکزی ملزم کو اس کے ساتھی سمیت گرفتار کرلیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملزم عمران نے چھ سال کے دوران درجنوں بچوں سے زیادتی کا اعتراف کیا ہے، جبکہ اس کے ساتھی کی شناخت وقاص خان کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔
_______________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, “SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے





