رائے عامہ کے حالیہ جائیزے کے مطابق بائیں بازو کی امیگریشن مخالف جماعت ون نیشن اور اس کی رہنما پالین ہنسن کی مقبولیت میں نو پوائنٹس اضافہ ہواہے جس سے ون نیشن کی حمایت چھبیس فیصد ہو گئی ہے۔ ون نیشن کی لیڈر پولین ہینسن کی مقبولیت وزیرِاعظم انتھونی البانیزے سے بھی ذیادہ ہو کر اڑتیس فیصد ہوگئی ہے۔

موناش یونیورسٹی کے سینئر لیکچرر ڈاکٹر بینجمن موفٹ کا کہنا ہے کہ پولین ہینسن نے درحقیقت اپنا پیغام یا حکمتِ عملی تبدیل نہیں کی بلکہ اصل تبدیلی ووٹرز کی ترجیحات میں آئی ہے۔
حالیہ عوامی جائیزے کے مطابق ون نیشن کی لیڈر پولین ہینسن اس وقت آسٹریلیا کی سب سے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ریڈ برج پولنگ
سائمن ویلش، ریڈ برج کے تجزیہ کار ہیں۔ان کے مطابق واضح رجحانات موجود ہیں کہ کون لوگ ون نیشن کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ ۔لبرلز اور نیشنلز کی بنیادی ووٹ شرح، جن کا اتحاد جنوری کے وسط میں ڈرامائی طور پر ختم ہوا، سات پوائنٹس کمی کے بعد انیس فیصد پر آ گئی۔لبرل فرنٹ بینچر ڈین ٹی ہن نے سابق اتحاد کے اندرونی اختلافات کو کمزور کارکردگی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ مسٹر ویلش کے مطابق رائے عامہ کی تبدیلی لبرل نیشنل کے اتحاد کی رسۃ کشی اور قیادت پر بے یقینی کے ساتھ معاشی سمت کے خلاف ردعمل بھی ہو سکتی ہے۔




