پاکستان کی نیشنل ویمن کرکٹ ٹیم کی طرف سے 66 ایک روزہ بین الاقوامی اور 51 ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل کھیلنے والی قانیتا جلیل ان دنوں سڈنی میں مقیم ہیں اور آسٹریلیا میں لیول 2 کوچ کی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ ، وہ ایک فٹنس ٹرینر اور عمر رسیدہ افراد کے لئے نگہداشت بھی فراہم کرتی ہیں ۔ ان کی کہانی سنئے اس ہوڈکاسٹ میں۔
قانیتا جلیل جنہوں نے سال 2005 سے 2015 کے دوران پاکستانی ویمن کرکٹ ٹیم کے نیشنل اسکواڈ میں جگہ ، ان دونوں سڈنی میں مقیم ہیں اور لیول 2 کوچنگ کر رہی ہیں
قانیتا نے ایس بی ایس اردو سے اپنی خصوصی گفتگو میں نہ صرف بطور کرکٹر اپنے تجربات کا تذکرہ کیا بلکہ اپنی آسٹریلیا آمد اور یہاں کی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا۔
قانیتا کا کہنا ہے کہ ان کے والدین نے ان کے بچپن سے لے کر کرکٹر بننے کے سفر میں اہم کردار ادا کیا، وہ کہتی ہیں میرے والدین میرے پیچھے ایک دیوار کی مانند ہمیشہ کھڑے رہے۔
بطور کرکٹر اپنے تجربات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی قومی ٹیم کے کولڈ میڈل اسکواڈ کا حصہ ہونے کو اپنی خوبصورت ترین یاد قرار دیا
آسٹریلیا میں موجود جنوب ایشیائی پس منظر رکھنے والی لڑکیوں کا کرکٹ کے حوالے سے مستقبل کیا دیکھتی ہیں اس پر قانیتا کا کہنا تھا کہ ٹیلنٹ موجود ہے لیکن ضروری ہے کہ ’کمیٹمنٹ‘ بھی ہو ۔




