پاکستانی معاشرے میں جہاں مردوں کے کھلےعام ڈانس کرنے کو بھی معیوب سمجھا جاتا ہے، وہیں ایک ایسا نوجوان بھی ہے جس نے بیلی ڈانسر بننے کا انتخاب کیا، نوجوان کو اپنے اس فیصلے پرشدید ردِ عمل کا سامنا بھی کرنا پڑا، خاندان والوں نے طعنے دیے، تو رشتے داروں نے طنز کے تیر چلائے، دوستوں نے طرح طرح کے القابات سے نوازا، تاہم اپنی دھن میں مگن یہ نوجوان معاشرتی رکاؤٹوں کو عبور کرتا ہوا پاکستان کا نہ صرف پہلا میل بیلی ڈانسر بن گیا، بلکہ اپنی ایک منفرد پہچان بھی بنا لی ۔
یوشا حسین اب پاکستان میں پہلے میل ڈانسر کے طور پر اپنا مقام بنا چکے ہیں، تاہم اب بھی انہیں کئی چینلجز درپیش ہیں۔
اپنی منفرد مگر دلچسپ کہانی سے متعلق یاد کرتے ہوئے یوشا حسین نے بتایا کہ ابتدا میں تو مجھے یہ تک کہا گیا کہ تم لڑکے ہو کر یہ سب کیا کر رہے ہو ؟ کیا تم کوئی میراثی ہو؟ ساتھ ہی طرح طرح کے القابات سے بھی نوازا گیا۔
معاشرتی رکاؤٹوں کو عبور کر کے آج اپنی پہچان بنانے والے بیلی ڈانسر کے مطابق جب انہیں پہلی مرتبہ کام کرنے کی پیشکش ہوئی اور شہر میں ان کے پوسٹر لگے تو بہت زیادہ خوشی محسوس ہوئی۔ یوشا حسین کے مطابق ان کا یہ سفر مشکلات سے بھرپور تھا۔
خاندان، اسکول کے دوستوں، رشتہ داروں کی جانب سے زیادہ سپورٹ نہیں ملی، سب لوگ ہی طنز کرتے رہے، والد اور بھائی بھی شروع میں کافی ناراض تھے۔
بیلی ڈانسر کے مطابق میری ڈریسنگ دیکھ کر لوگ باتیں کرتے ہیں، تاہم وہی لوگ جب میری پرفارمنس دیکھتے ہیں تو داد دیئے نہیں رہ سکتے۔ بیلی ڈانسر کے مطابق انہیں خاندان اور دوستوں نے ہی نہیں بلکہ کچھ استادوں نے بھی جج کرنے کی کوشش کی اور میرے بارے میں نامناسب الفاظ کہے۔
پہلی بیلی ڈانس پرفارمنس کو یاد کرتے ہوئے یوشا نے بتایا کہ اُس وقت کافی گھبراہٹ محسوس کر رہا تھا، تاہم ساتھ ہی سیکڑوں لوگوں کے سامنے پرفارم کرنے کی خوشی بھی تھی۔ یوشا حسین بھارت کےمرد بیلی ڈانسر ایشان ہلال سے کافی انسپائر جبکہ بھارتی بیلی ڈانسر مہر ملک کے مداح بھی ہیں۔
بشکریہ :احسان خان





