اردو کے عظیم مزاحمتی شاعروں میں علامہ سر محمد اقبال، الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی، ساحرؔ لدھیانوی،بسمل، حبیب جالبؔ، فیض احمد فیضؔ ، جوش ملیح آبادی ، برج نرائن چکبست سمیت کئی سو نا معلوم و گمنام شعرا شامل ہیں جن کے اشعار نے ہندوستان کی آذادی سے لے کر آج تک اپنے انقلابی شعروں سے اپنے اپنے ادوار میں بغاوتوں، شورشوں اور حقوق کے لئے اٹھنے والی آوازوں کا ساتھ دیا ہے۔

اردو شاعری ہر دور میں آذادی اور جمہوری تحریکوں کے دوران عام آدمی کے جذبات ، جوش اور ولولے کو بڑھانے میں ہراول دستہ بنتی رہی ہے۔ اگر ایک طرف اسی طرح کے انقلابی اشعار پاکستان میں پچھلے دنوں طلبہ تنظیموں کی بحالی کے حق میں مظاہروں کے دوران سنائی دئے تو دوسری طرف بھارت میں شہریت قوانین کے خلاف جاری حالیہ مظاہروں میں بھی انقلابی اشعار نے عوامی مہیم کو مہمیز کیا ۔پچھلے سال لاہور مین فیض میلے کے باہر مظاہرے میں طلبا و طالبات نے بسمل عظیم آبادی کی معروف نظم کے اشعار ’سرفرشی کی تمننا اب ہمارے دل میں ہے کو نعروں کا رنگ دے کر سوشل میڈیا پر دھوم مچائی تو بھارت میں شہریت کے قوانین کے خلاف احتجاج میں پاکستان میں جنرل ضیا کی فوجی آمریت کے دنوں میں مقبول ہونے والی فیض کی نظم’ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘نے بھی تند و تیز بحث کو جنم دیا۔ اس سے پہلے پاکستان میں حبیب جالب کی شاعری نے فوجی آمر ایوب خان کے خلاف عوامی احتجاج میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ترقی پسند شعرا اور ادیبوں میں فیض، فراز، کیفی اعظمی، علی سردار جعفری، امرتا ۔پریتم راجندر سنگھ بیدی، نے نئے لہجے میں بات کی جب کہ ان میں سے کئی شعرا اور ادیب جیل بھی گئے۔۔ اسی طرح انیس سو ستتر میں بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک میں بھی اشعار کا استعمال رہا۔ تحریک پاکستان میں بڑے بڑے جید شعرا لیڈر کے طور پر سامنے آئے جن مٰن علامہ اقبال اور ظفر علی خان جیسے شعرا بھی شامل تھے۔
تاریخی کے صفحات پلٹ کر پیچھے دیکھیں تو ہندوستان کی تحریک آذادی میں الطاف حسین حالی نے نظم ’حب وطن‘ سے جرات مندانہ شاعری کا علم بلند کیا۔ جس کے بعد شبلی ، اقبال، ساحرؔ ،بسمل، جوش ، چکبست ، درگاہ شاہی، ظفر علی خان، حسرت موہانی، برج نرائین، سمیت کئی سو معروف و گمنام شعرا انگریزوں سے آزادی کی اس تحریک کی آواز بنتے رہے۔
اسی دور میں حسرت موہانی کی معروف نظم ’ انقلاب زندہ باد‘ آذادی کا ترانہ بن گئی تھی۔
برصغیر کی آذادی کے بعد بھی ترقی پسند تحریک سے متاثر شاعری غمِ جاناں سے ہٹ کر غمِ دوراں کو موضوع کو شعر و سخن بناتی رہی۔ بھارت میں اردو شاعری سے نا بلد حلقے فیض کی نظم ہم دیکھیں گے کہ اِن اشعار پر وبال کھڑا کرتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ نکتہ چینی کرنے والے خود اردو شاعری میں بتوں، حرم، ،اور خدا، یسےاستعاروں کے استعمال سے ہی نا بلد ہیں۔
اردو شاعری میں انقلابی شاعری کرنے والوں کچھ شعرا کا منتخب کلام استعاروں اور تشبیہات کے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
علامہ اقبال
اٹھومری دنیا کے غریبوں کو جگادو ۔ کاخ امراء کے درد دیوار ہلا دو!
گرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقین سے ۔ کنجشاک فرو مایہ کو شاہین سے لڑادو

جوش نے اپنی مایہ ناز معروف نظم ’’بغاوت ‘‘ میں انگریزوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔
اے جواں مردوں خدارا باندھ لو سر سے کفن ۔ یا تو اب تاج پہنیں گے یا خو نی کفن
جوش ملیح آبادی کا نعرہ شباب
کام ہے میرا تغیر نام ہے میرا شباب میرا نعرہ انقلا ب انقلاب انقلاب

بسمل عظیم آبادی
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ۔ دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار ۔ آئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے
جس دیس کے عہدیداروں سے عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں ۔ جس دیس کے سادہ لوح انساں وعدوں پہ ہی ٹالے جاتے ہوں
اس دیس کے ہر اک لیڈر پر سوال اٹھانا واجب ہے ۔ اس دیس کے ہر اک حاکم کو سولی پہ چڑھانا واجب ہے

حبیب جالب
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نُور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانت

احمد فراز
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی ۔ مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا۔جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے

اسرار الحق مجاز
سرکشی کی تند آندھی دم بہ دم چڑھتی ہوئی ۔ ہر طرف یلغار کرتی ہر طرف بڑھتی ہوئی

ساحر لدھیانوی
بم گھروں پر گریں کہ سر حد پر۔ روح تعمیر زخم کھاتی ہے ۔ ٹینک آگے بڑھیں کے پیچھے ہٹیں ۔ کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے

. فیض احمد فیض ۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے ۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے ۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے ۔ جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں ۔ روئی کی طرح اُڑ جائیں گے ۔ ہم محکوموں کے پاؤں تلے ۔ یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر ۔ جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی ۔ جب ارضِ خدا کے کعبے سےسب بُت اُٹھوائے جائیں گے ۔
ہم اہلِ سفا مردودِ حرم ۔ مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے ۔ سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کاجو غائب بھی ہے حاضر بھی ۔ جو ناظر بھی ہے منظر بھی ۔ اٹھّے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو ۔ اور راج کرے گی خلقِ خدا ۔ جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو ۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔۔۔
Image Source: The citizen archive of Pakistan
اس آرٹیکل کا کچھ مواد ویکی یپیڈیا سے اخذ کیا گیا یے۔
قارئین کی دلچسپی کے پیشِ نظر یہ تحریر مئی ۲۰۲۳ میں دوبارہ ایپ ڈیٹ کی گئی





