ماہرِ بین الاقوامی سیاست امجد علی خان نے گفتگو میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین طے پانے والے مکہ ایگریمنٹ کی اہمیت اور اسے "اسلامک نیٹو" کہے جانے کی وجوہات پر روشنی ڈالی۔
بین الاقوامی سیاست کے ماہر امجد علی خان نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کے علاقائی سیکیورٹی ڈھانچے میں کمزوری کے پیشِ نظر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین مکہ ایگریمنٹ طے پایا، جسے کچھ حلقے "اسلامک نیٹو" کا نام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس معاہدے میں تینوں ممالک اپنی اپنی صلاحیتوں کے ساتھ شریک ہیں، پاکستان کی عسکری مہارت، سعودی عرب کی مالی طاقت اور ترکی کی تکنیکی ترقی اس اتحاد کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
امجد علی خان نے کہا کہ اس معاہدے میں نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت پائی جاتی ہے، جس کے تحت ایک رکن ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا، تاہم تینوں ممالک کے حکام نے اسے خالصتاً دفاعی نوعیت کا معاہدہ قرار دیا ہے جس کا بنیادی مقصد اسرائیل کے علاقائی توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف ایک ڈھال کے طور پر کام کرنا ہے۔ انہوں نے مصر کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معاہدے کا دائرہ اسرائیل کی سرحدوں تک پھیل سکتا ہے، تاہم اس کے باوجود اس کی نوعیت دفاعی ہی رہے گی۔
ایران کی جانب سے تحفظات پر بات کرتے ہوئے امجد علی خان نے بتایا کہ سعودی عرب اور ایران کے مابین تاریخی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود پاکستان اور ترکی کے ایران کے ساتھ تعلقات کشیدہ نہیں، اور مستقبل میں ایران بھی اس صورتحال کے ساتھ مصالحت کر لے گا۔




