اہم نکات
- نگران سیٹ اپ سے متعلق مشاورت میں تیزی
- سپریم کورٹ کی فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت
- توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان نے بیان ریکارڈ کرادیا
- وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف نے پشاور کا دورہ کیا اور باجوڑ حملے میں زخمیوں کی عیادت کی ہے
پاکستان میں قومی اسمبلی چند روز کی مہمان رہ گئی ہے، ایسے میں یہ سوال ہر ذہن میں گردش کررہا ہے کہ نگران وزیراعظم آخر کون ہوگا؟ سیاستدان یا کوئی ریٹائرڈ بیورو کریٹ؟ کیا انتخابات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں؟ اور نگران سیٹ اپ لمبا عرصہ چل سکتا ہے؟
قومی اسمبلی کی معیاد ختم ہونے سے پہلے نگران سیٹ اپ سے متعلق اہم ترین مشاورت میں تیزی آئی ہے، حکمران اتحاد کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز میں ہوا ہے جس میں نگران وزیراعظم کے حوالے سے مختلف ناموں پر غور کیا گیا، اجلاس میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی، مسلم لیگ ق اور دیگر سیاسی جماعتوں نے شرکت کی، ذرائع کے مطابق نگران وزیراعظم کیلئے 5 ناموں پر غور کیا گیا لیکن کسی نام پر اتفاق نہیں ہوسکا، وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں سے 2 دن کے اندر نگران وزیراعظم کے حوالے سے حتمی نام مانگ لیے ہیں۔
تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چوہدری نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات سے قبل پاکستان کے حالات معمول پر لائے جائیں، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اسٹبلشمنٹ اور نواز شریف سے تلخیاں کم کرائی جائیں، تلخی کے اس ماحول میں الیکشن ہوئے بھی تو ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، مشیر زراعت سندھ منظور وسان نے پیشگوئی کی ہے کہ عام انتخابات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں اور اس میں انٹرنیشنل قوتوں، قرضہ دینے والوں کا کردار ہوسکتا ہے، نگران سیٹ اپ 2 سے 3 سال بھی چل سکتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہونگے اور انتخابات میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں۔

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف کیس میں اٹارنی جنرل نے گرفتار 102 افراد کی تفصیلات عدالت میں جمع کروا دی جس میں ملزمان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ پک اینڈ چوز کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا،اگر انکوائری ہوئی تو ریکارڈ پر کیوں نہیں؟ قانون اجازت نہیں دیتا کہ مجمع میں سے صرف چند افراد کا انتخاب کیا جائے، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پک اینڈ چوز نہیں کیا، بہت احتیاط برتی گی، جو لوگ براہ راست ملوث تھے انہیں ہی ملٹری کورٹس بھیجا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی حکومت ان 102 افراد کا کورٹ مارشل کرنا چاہتی ہے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان کیخلاف صرف تصویری شواہد ہی موجود ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ متعلقہ حکام سے ہدایات لیکر شواہد کے متعلق بتا سکتا ہوں۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ جب اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہو تو فل کورٹ بنانی چاہئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ ججز نے کیس سننے سے معذرت کی ہے تو فل کورٹ کیسے بنائیں، فل کورٹ کی درخواست بہترین لکھی گئی ہے، اس لئے اس پر دلائل سننا چاہیں گے، دیگر درخواست گزاروں کی رائے بھی سنیں گے، اعتزاز احسن نے فل کورٹ کی تشکیل کی استدعا کی مشروط حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام ملزمان کو عدالتی تحویل میں جیل بھیجا جائے تو فل کورٹ پر آمادہ ہوں۔
وکیل لطیف کھوسہ نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ چھ رکنی بینچ بھی فل کورٹ ہی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے بھی مخالفت کرتے ہوئے اپنے دلائل میں کہا کہ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ ہوچکا ہے، بینچ حکومتی خواہش پر نہیں بن سکتا کہ کس بینچ کا فیصلہ مانا جائے گا کس کا نہیں۔

پاکستان کی قومی اسمبلی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل2023 کثرت رائے سے منظور کر لیا ،پاکستان کے مفادات کے برخلاف کام کرنے والا ،سرکاری دستاویزات چوری یا افشاءکرنے والے شخص کو جرم ثابت ہونے پر 3سال قید یا 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جاسکے گی، بل کے تحت سیکیورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ کے چھاپہ مارنے اور دستاویزات قبضے میں لینے کا اختیار ہوگا، بل وزیر پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی نے پیش کیا، اپوزیشن نے بل کی کاپی فراہم نے کرنے پر احتجاج کیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس میں بیان ریکارڈ کرادیا۔ عمران خان نے اپنے حق میں گواہ اور شواہد پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایڈیشنل اینڈ سیشنز جج ہمایوں دلاور نے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی نے دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور مہیا کیا گئے سوالنامے میں موجود 35 سوالات کے جوابات دیئے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے اس کیس میں کسی کو نمائندہ مقرر کیا ہی نہیں۔ سیشن عدالت نے خود ہی میرا نمائندہ مقرر کردیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے شکایت دائر کرنے کیلئے کسی کو نامزد نہیں کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا جو بدنیتی پر مبنی تھا۔ ریفرنس میں قانون کو غلط طریقہ کار سے سمجھا گیا تھا۔ یہ درست نہیں کہ میں جھوٹا بیان اور ڈیکلریشن جمع کروایا۔ ستر سال کی تاریخ میں الیکشن کمیشن یا نیب نے توشہ خانہ ریکارڈ کبھی مانگا؟ مجھ سے تحائف کا صرف اس لیے پوچھا جارہا ہے تاکہ مجھے نااہل کر سکیں۔ شکائت کنندہ پر لازم ہے کہ وہ ثابت کرے کہ تحائف میرے پاس تھے جو اس نے ثابت نہیں کیے۔ میں نے تحائف ذاتی طور پر نہیں بیچے۔ میں نے بریگیڈیئر وسیم چیمہ کے ذریعے تحائف بیچے جن کو عدالت بطور گواہ نوٹس جاری کرسکتی ہے۔ تحائف بیچنے کے بعد وصول کردہ رقم کو اثاثہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس کیس میں دونوں گواہان سرکاری ہیں، جن کو میرے خلاف استعمال کیاگیا۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ گواہان میرے خلاف جھوٹا بیان دیں۔ چودہ ماہ سے پی ڈی ایم مجھے انتخابات سے باہر کرنا چاہتی ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنے حق میں دفاع پیش کریں گے؟ چیئرمین پی ٹی آئی نے موقف اپنایا کہ اپنی صفائی میں شواہد پیش کرونگا۔ یہ سیاسی بنیادوں پر دائر کیا گیا کیس ہے۔ استغاثہ میرے خلاف شواہد لانے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ خود بطور گواہ پیش ہونا چاہتے ہیں؟ جس پر چیئرمین پی ٹی آئی نے حلف پر بیان دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں شواہد پیش کرنا چاہوں گا۔
چیرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کیے اور عدالت سے روانہ ہوگئے۔ وکیل بیرسٹر گوہر کی جانب سے استدعا کی گئی کہ دفاع میں گواہان کو پیش کرنا ہے، تھوڑا وقف دیا جائے۔ ابھی گواہان کی لسٹ تیار نہیں کی۔ عدالت نے بیرسٹر گوہر کو گواہوں کی لسٹ گراہم کرنے کیلئے بدھ تک کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے باجوڑ دھماکے میں زخمی ہونیوالے افراد کی عیادت کی۔
دورے کے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو باجوڑ خودکش دھماکے سے متعلق تحقیقات سے آگاہ کیا گیا ، وزیر اعظم نے خودکش دھماکوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے، سرحد پار سے معصوم شہریوں پر بزدلانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور پاکستان دشمن عناصر کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام کے جلسے میں دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 50 سے زائد ہوگئی، جب کہ دھماکے میں 200 سے زائد افراد زخمی ہیں.
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے افعانستان سے دہشتگردی روکنے کا مطالبہ کیا ہے، بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ کابل میں قبضے کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان دہشتگردی کیخلاف افعانستان کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے
جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ انہوں نے کارکنوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور نظریے کے ساتھ کھڑا رہنے کی ہدایت کی ہے
(رپورٹ : اصغرحیات)




