سڈنی کے مشہور سنٹرل اسٹیشن پر لگ بھگ نصف شب کا وقت ہے۔ پُرجوش نوجوانوں کی ٹولیاں اور گروپس، پلیٹ فارم پر دل دل پاکستان کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں ۔ یہ مناظر ہیں سڈنی میں پاکستان کی سیمی فائینل میں نیوزی لینڈ پر فتح کے بعد کے۔ اور کچھ ایسے ہی مناظر جا بجا اسٹیڈیم کے اندر، باہر اور میٹرو ٹرین پر دیکھنے کو ملے۔ ٹی ٹوئینٹی کرکٹ کے دیوانوں کے ساتھ آسٹریلین بھی سرُ تال ملانے کی کوششوں میں مصروف نظر آئے اور کئی آسٹریلین پوچھتے پھر رہے ہیں کہ آخر یہ’ دِل دِل ‘ کیا ہے؟
جب سے پاکستانی ٹیم آسٹریلیا پہنچی ہے دل دل پاکستان کےنعرے اس کے ہمسفر ہیں۔۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ پاکستانی ٹیم کا میچ ہو اور اور ہار جیت سے بے نیاز پاکساتنی شائیقین نے دل دل پاکستان کے نعروں سے اسٹیڈیم میں حشر نہ برپا کیا ہو۔ سڈنی کرکٹ گرؤنڈ ہو، میلبورن کا تاریخی ایم سی جی کا میدان ہو یا ایڈیلیڈ اووَل، آخر اس گیت میں ایسی کیا بات ہے کہ پورے آسٹریلیا میں جہاں جہاں پاکستانی شائیقینِ کرکٹ کا ہجوم موجود ہو وہاں وہاں اس گیت کی دھوم مچتی ہے۔ وائیٹل سائین میوزک بینڈ میں جنید جمشید کے ساتھ شامل گلوکار سلمان احمد نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ برسوں پہلے گائے چند نوجوانوں کے اس نغمے میں آج بھی اتنی طاقت ہے کہ قوم کو ایک جگہ متحد کر دیتی ہے۔




جنید جمشید کے سفر کی کہانی سنئے خود ان کی زبانی


اور صرف پاکستانی ہی نہیں کئی بھارتی نغمے بھی میں بھارتی شائیقین کا دل گرماتے رہے۔





