ملک کے سب سے بڑے تجارتی مرکز کراچی میں عوامی سہولیات کی بدتری اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ کئی اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان کا پول بھی اس حادثے کے بعد کھل گیا۔
طیارہ حادثے میں صرف دو مسافر ہی زندہ بچ سکے۔ معجزانہ طور پر بچ جانے والے مسافروں میں سے ایک محمد زبیر اور ان کے بھائی سے ایس بی ایس اردو کے نمائندے محمد فراز نے گفتگو کی۔
"جب جہاز دو تین دفعہ زمین سے ٹکرایا ہے تو پھر اس کی اڑان ہموار ہوگئی تھی۔
"سب کو ایسا لگا کہ جہاز اب لینڈ کررہا ہے پر کسی وجہ سے وہ دوبارہ اُڑگیا۔
"آخر وقت تک یہی لگ رہا تھا کہ جہاز لینڈ کرے گا۔ سب اپنے معمول کے حساب سے بیٹھے ہوئے تھے۔" محمد زبیر کی ایس بی ایس اردو سے گفتگو۔
عملے کی طرف سے جہاز میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا کہ اس کے انجن میں مسئلہ ہے یا ٹائر نہیں کھل رہے۔
""جب آخری اعلان ہوا تو اس میں بھی پائلٹ نے کہا کہ میں لینڈ کرنے والا ہوں۔

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ اگر پہلے سے پتہ ہوتا کہ جہاز کریش کرنے والا ہے تو سب زہنی طور پر تیار ہوتے۔
"میرے دائیں بائیں مسافر اطمینان سے بیٹھے تھے اور کسی کو نہیں پتہ تھا کہ جہاز کریش کرنے والا ہے۔
اچانک سے جہاز کا بایاں پَر ایک عمارت سے ٹکرا گیا اور اسی لمحے
جہاز میں آگ لگ گئی۔
اس کے بعد جہاز [کراچی کے علاقے] ماڈل کالونی کے مکانات پر گرجاتا ہے۔"
ہر طرف اندھیرا تھا، چیخوں کی آوازیں تھیں، بچوں کی، عورتوں کی، مردوں کی، بوڑھوں کی۔
"ساتھ والا شخص تک نظر نہیں آرہا تھا، اتنا اندھیرا تھا۔"
زبیر نے بتایا کہ اس نے اپنا سیٹ کا بیلٹ کھولا اور قریب ہی روشنی کی طرف گیا۔ جہاز سے باہر آیا تو معلوم ہوا کہ وہ جہاز کے پَر کے اوپرا کھڑا ہے۔
"میں نے نیچے دیکھا تو ایک گھر تھا، تقریباً دس فٹ کی اونچائی تھی جس سے میں نے چھلانگ لگائی۔"

دوسری جانب محمد زبیر کے بھائی نے ایس بی ایس اردو سے گفتگو میں بتایا کہ وہ جمعے کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے بھائی کا انتظار کررہے تھے کہ انھیں طیارہ حادثے کی اطلاع ملی۔
"جب ٹی وی پر دیکھا کہ فلائٹ کریش کرگرئی ہے تو ہمارے پاوں تلے زمین نکل گئی۔"
لیکن چند ہے لمحوں بعد زبیر نے اپنے گھر والوں کو فون کرکے بتایا کہ وہ حادثے میں بچ گیا ہے۔
پاکستان میں ہوابازی کے وفاقی وزیر محمد سرور کا حادثے کے بعد تحقیقات کے بارے میں کہنا تھا کہ بائیس جون تک پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی جائے گی۔
" ہمیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ یہاں کسی کے ساتھ زیادتی ہو یا کسی کو ریلیف دیا جائے۔ یہ کمٹمنٹ عمران خان کی بھی ہے اور میری بھی ہے۔"

لیکن کئی لواحقین ایسے ہیں جو اپنے پیاروں کی لاش کا ابھی تک انتظار کررہےاور حکومتی اداروں کی اس حادثے سے متعلق کارکردگی پر شدید نالاں ہیں۔
عنبر ناصر نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ انہیں اپنے بھائی کی لاش کے حصول کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑ رہی ہیں
عنبر ناصر کا بھائی بھی اس حادثے میں لقمہ اجل بن گیا تھا۔
"واقعے کے ایک ہفتے بعد بھی کسی حکومتی ادارے کے اہلکار نے نہ ہم سے رابطہ کیا، نہ ہمیں کچھ بتایا گیا ہے۔
ناہی کوئی ہیلپ ڈیسک لگایا گیا اور نہ ہی کوئی نظام بنایا گیا ہے کہ کس طرح ہماری اور باقی لواحقین کی مدد کی جائے گی جو اپنے پیاروں کو ڈھونڈتے پھررہے ہیں۔
"کبھی ایک آفس، کبھی دوسرا آفس۔ کبھی ایک ہسپتال، کبھی دوسرا ہسپتال۔ مکمل بد انتظامی، کسی نے ہماری مدد نہیں کی۔"




