محتسب آئن اینڈرسن نے ایس بی ایس کو بتایا کہ چونکہ ادارہ چھ سال تک قانون توڑنے سے آگاہ تھا، اس لیے اسے یہ معاملہ بہت پہلے اعلیٰ سطح پر اٹھانا چاہیے تھا۔ مسٹر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ اس قانونی عدم تعمیل کا کچھ حصہ روبوڈیبٹ رائل کمیشن سے پہلے کا ہے، اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ محکمہ نے اس کے بعد اپنے اندرونی طریقہ کار کو بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں۔
مسٹر اینڈرسن تصدیق کرتے ہیں کہ کم از کم سولہ ہزار چھ سو افراد متاثر ہوئے، جن میں سے بعض خاندانوں کے لئے ادارے پر دس ہزار ڈالر تک کی رقم واجب الادا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان افراد کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ قانون غلط طور پر نافذ کیا گیا، لیکن صورت حال اس لیے پیچیدہ ہے کہ واجب الادا رقم پانے والے بنیادی نگہداشت کرنے والے نہیں تھے۔
نیشنل لیگل ایڈ کی ترجمان فئی ژانگ ممکنہ اجتماعی مقدمے پر تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہیں، مگر اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ چائلڈ سپورٹ جیسے معاملات میں قانونی چارہ جوئی کے لیے افراد کو نمایاں رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔
سروسز آسٹریلیا کے ترجمان ہینک جونگن کا کہنا ہے کہ محکمہ پہلے ہی نتائج بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر چکا ہے، جن میں عملے کی تربیت شامل ہے تاکہ وہ مالی بدسلوکی کا سامنا کرنے والے افراد کو پہچاننے اور مدد دینے کے قابل ہوں۔






